کہیں اتروائیں گئیں بالیاں، کہیں برقعہ پر مچا وبال، ری-نیٹ امتحان کے دوران موضوع بحث رہے کئی معاملے

کئی امتحان مراکز پر طلبہ نے شکایت کی کہ چیکنگ کے نام پر ان سے روپے بھی رکھوا لیے گئے۔ امتحان دے کر واپس آنے پر کسی کے 200 روپے تو کسی کے 500 روپے نہیں ملے۔

<div class="paragraphs"><p>پٹنہ میں نیٹ کا امتحان دینے کے لیے قطار میں لگے طلبہ و طالبات / آئی اے این ایس</p></div>
i

گزشتہ روز یعنی 21 جون 2026 کو ملک بھر میں ری-نیٹ یو جی امتحان منعقد کیا گیا۔ اس درمیان تمام امتحان مراکز پر ڈریس کوڈ کو لے کر سختی دیکھی گئی۔ کئی مراکز سے تو ایسے معاملے سامنے آئے جو دن بھر خبروں میں بنے رہے۔ راجستھان کے اجمیر میں امتحان مرکز پر کلثوم بانو کو برقعہ اور دوپٹہ ہٹانے کو کہا گیا۔ کلثوم نے اس کی مخالفت کی۔ دیگر امتحان مراکز پر بھی اس طرح کے معاملے سامنے آئے۔ گورکھپور یونیورسٹی واقع ایک مرکز پر ایک طالبہ سے بالیاں اتارنے کے لیے کہا گیا۔ طالبہ پرگیہ ترپاٹھی جب امتحان دے کر ہال سے باہر نکلیں تو انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وجہ یہ تھی کہ جس خاتون نے طالبہ کی بالیاں اتاری تھیں، وہ خاتون غائب تھی۔ کئی گھنٹوں کی پوچھ تاچھ اور پولیس سے رابطہ کرنے کے بعد طالبہ کو بالیاں واپس ملیں۔

کئی امتحان مراکز پر طلبہ نے شکایت کی کہ چیکنگ کے نام پر ان سے روپے بھی رکھوا لیے گئے۔ امتحان دے کر واپس آنے پر کسی کے 200 روپے تو کسی کے 500 روپے نہیں ملے۔ طلبہ نے اس کی شکایت وہاں موجود پولیس ٹیم سے کی۔ نیٹ ری-ایگزام میں کسی طرح کی گڑبڑی نہ ہو اس کے لیے طلبہ اور ان کے لباس سے جڑی ہر چھوٹی چیز کی چیکنگ کی گئی۔ طلبہ کے چشمے، پینٹ کی زِپ، جوتے، رومال اور چپلوں کے سول، ہر ایک چیز کو چیک کیا گیا۔ کئی طالبات کی چوٹیاں کھلوائی گئیں۔ کئی طلبہ کے منہ کھلوا کر چیک کیے گئے۔


قوانین کی سختی کے باعث کئی امتحان مراکز پر تلخ بحث دیکھنے کو ملی، تو کچھ طلبہ اور والدین حیران و پریشان نظر آئے۔ گجرات کے احمد آباد کے ایک سنٹر پر والدین نے چیکنگ کے دوران سخت رویے پر اعتراض کیا۔ چیکنگ کے وقت کچھ طلبہ سے گلے میں پہننے والی کنٹھی (مقدس دھاگہ جو مذہبی علامت ہے) کو ہٹانے کے لیے کہا گیا۔ اس بات پر طلبہ اور والدین ناراض ہو گئے۔ ڈریس پر سختی کے قوانین کے ساتھ ہی انٹری کو لے کر بھی خوب ہنگامہ ہوا۔ مہاراشٹر سے 2 ایسے طلبہ کی خبر سامنے آئی جنہیں صرف 2 منٹ کی تاخیر کی وجہ سے داخلہ نہیں ملا۔ والدین نے خوب ہنگامہ کیا، لیکن سیکورٹی اور جانچ میں تعینات افسران نے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انٹری نہیں دی۔ اسی طرح بھوپال کے بھی 2 نیٹ امیدواروں کو تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

این ٹی اے کے مطابق نیٹ امتحان میں برقع، حجاب، پگڑی یا دیگر مذہبی لباس پہننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ حالانکہ ایسے امیدواروں کو سیکورٹی چیک کے لیے مقررہ وقت سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل امتحان مرکز پہنچنا ہوتا ہے۔ خاتون امیدواروں کی چیکنگ ان کی رازداری اور احترام کا خیال رکھتے ہوئے، خاتون عملے کے ذریعے الگ جگہ پر کیے جانے کا قانون ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔