ڈی یو ایس یو چناؤ: مستقبل کے سیاسی رہنما تیار کرنے والے انتخابات

دہلی یونیورسٹی کے طلبا یونین انتخابات سے نہ صرف نوجوانوں کے سیاسی رجحانات کا اندازہ لگتا ہے بلکہ مستقبل کے رہنماؤں کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

سید خرم رضا

ڈی یو ایس یو کے انتخابات آج ہیں اور نتائج کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔

دہلی یونیورسٹی میں طلبا یونین (ڈی یو ایس یو) انتخابات ہمیشہ سے بالادستی کی جنگ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی ان میں گہری دلچسپی رہتی ہے۔ دہلی یونیورسٹی طلبا یونین کا انتخاب لڑنے والے کئی امیدوار آگے چل کر سیاسی رہنما بنے ہیں اور انہوں نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں میں اپنا مقام بنایا ہے۔ موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے لے کر کانگریس کی جواں سال ترجمان راگنی نائک تک کئی ایسے چہرے ہیں جو کبھی دہلی یونیورسٹی طلبا یونین کے نمائندے رہ چکے ہیں۔

سابق مرکزی وزیر اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے ماکن سائنس کی تعلیم حاصل کرنے والے پہلے ایسے طالب علم تھے جو ڈی یو ایس یو کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اجے ماکن نے بتایا، ’’1985 سے قبل سائنس کا کوئی بھی طالب علم انتخابات میں نہیں جاتا تھا۔ میں پہلا ایسا اسٹوڈنٹ تھا جس نے چناؤ لڑا اور جیتا۔‘‘

عام آدمی پارٹی (عآپ) کی رہنما الکا لامبا بھی 1995 میں ڈی یو ایس یو کی صدر رہ چکی ہیں۔ ان کے علاوہ وجے گوئل، وجندر گپتا، امرتا دھون، وجے جولی، ستیش اپادھیائے اور نوپُر شرما ایسے چہرے ہیں جو طلبا سیاست سے مرکزی دھارے کی سیاست میں آ ئے ہیں۔

در اصل دہلی یونیورسٹی ہمیشہ سے ہی طلبا کے لئے سیاست کی نرسری رہی ہے۔ یہاں تقریباً سوا لاکھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اور ان میں سے تقریباً 50 فیصد طلبا ووٹ ڈالتے ہیں۔ یونیورسٹی طلبا یونین کے علاوہ ہر کالج ایک طلبا ایسوسی ایشن کا چناؤ بھی کراتا ہے۔

اس مرتبہ چناؤ میں چار تنظیمیں مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت سے میدان میں ہیں۔ ان میں بی جے پی کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید (اے بی وی پی) ، کانگریس کی طلبا یونٹ نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی)، عام آدمی پارٹی کی طلبا تنظیم چھاتر یوا سنگھرش سمیتی (سی وائی ایس ایس) اور بائیں بازو کی اہم طلبا تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (آئیسا)شامل ہیں۔

ایک دو مواقع پر اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کا مظاہرہ بھی قدر بہتر رہا ہے حالانکہ عموماً مقابلہ این ایس یو آئی اور اے بی وی پی کے درمیان ہی رہتا ہے۔

ڈی یو ایس یو کے اس مرتبہ کے چناؤ میں سی وائی ایس ایس اور آئیسا اتحاد میں چناؤ لڑ رہے ہیں۔ ذاکر حسین کالج کے سابق طالب علم سید صہیب کہتے ہیں کہ ’’جس طرح دہلی کا متوسط طبقہ کانگریس اور بی جے پی میں بنٹا ہوا ہے ٹھیک اسی طرح طلبا بھی بنٹے ہیں۔‘‘ لیفٹ کو لے کر طلبا کی الگ دلچسپی ہے تو ایس سی/ایس ٹی اور او بی سی کا رجحان عام آدمی پارٹی کی سی وائی ایس ایس کی جانب ہے۔

دیال سنگھ کالج کے سابق طالب علم اور دہلی کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر علی مہدی کہتے ہیں کہ ’’جو طالب علم لیفٹ نظریہ کے حامل ہوتے ہیں وہ ہمیشہ لیفٹ پارٹیوں کی طلبا تنظیم کو ہی ووٹ دیتے ہیں اور اس سے این ایس یو آئی کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ لیکن او بی سی اور ایس سی ایس ٹی طلبا اے بی وی پی کو ہرانا چاہتے ہیں اور اسے صرف این ایس یو آئی ہی ہرا سکتی ہے۔

وہیں دہلی کے سابق وزیر اروندر سنگھ لولی کو بھروسہ ہے کہ اس مرتہ این ایس یو آئی کی جیت یقینی ہے کیوں کہ بڑھتی بے روزگاری اور بڑھتے تیل کے داموں سے طلبا بی جے پی سے ناراض ہیں۔ ادھر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور اے بی وی پی کے مشیر رمیش بدھوڑی اے بی وی پی کی جیت یقینی مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’نوجوانوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی زبردست مقبولیت ہے لہذا طلبا اے بی وی پی کو ہی ووٹ دیں گے۔ ‘‘ اس سب کے بیچ عام آدمی پارٹی کی تنظیم سی وائی ایس ایس کا خیال ہے کہ آئیسا کے ساتھ مل کر وہ سب کی چھٹی کر دینے والی ہے۔

یہ تمام دعوے اپنی جگہ لیکن اتنا ضرور ہے کہ سی وائی ایس ایس اور آئیسا کے ہاتھ ملانے کے سبب اس بار کا ڈی یو ایس یو چناؤ دلچسپ ہو گیا ہے۔ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں عآپ نے 70 میں سے 67 نشستیں حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی تھی اور اسے امید تھی ڈی یو ایس یو انتخابات میں بھی ان کی جیت ہوگی لیکن وہ تیسرے مقام پر رہی تھی۔ اس کے بعد 2016 اور 2017 کے انتخابات میں سی وائی ایس ایس نے لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات لاگو نہ ہونے کا بہانا بنایا اور انتخابات میں شرکت نہیں کی۔ سی وائی ایس ایس کا کہنا تھا کہ چناؤ میں طاقت اور پیسے کا کھل کر استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ سب کو حیران کرتے ہوئے وہ میدان میں ہیں، جبکہ اصولوں میں کوئی بتدیلی نہیں ہوئی ہے۔

تصور کیا جا رہا ہے کہ چناؤ میں سی وائی ایس ایس کی موجودگی سے اے بی وی پی کو فائدہ ہوگا۔ 2015 میں بھی سی وائی ایس ایس کے میدان میں ہونے کی وجہ سے اے بی وی پی نے ڈی یو ایس یو کی چاروں سیٹوں پر بڑے فرق سے جیت حاصل کی تھی۔ لیکن گزشتہ دو انتخابات میں جب سی وائی ایس ایس میدان میں نہیں تھی تو بازی این ایس یو آئی کے ہاتھ لگی تھی۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ عام آدمی پارٹی کی بنیادی طاقت رہے نوجوان اب اس کے ساتھ نہیں ہیں اور ڈی یو ایس یو انتخابات میں یہ فیکٹر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ وہیں این ایس یو آئی نے آئیسا-سی وائی ایس ایس سے مقابلہ کے لئے اس مرتبہ ایک دلت طالبہ کو بھی میدان میں اتارا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے چیف الیکشن آفیسر کے ساتھ ہی تمام کالجوں کے لئے ٹیم تشکیل دی ہے تاکہ چناؤ آزادانہ اور پر امن طرقہ سے مکمل ہو سکیں۔ تمام انتظامات کے باوجود اے بی وی پی کے نائب صدر عہدے کے امیدوار شکتی سنگھ نے مبینہ طور پر ذاکر حسین کالج میں مار پیٹ کی اور کالج کے پرنسپل مسرور احمد بیگ کو پولس بلانی پڑ گئی۔

ڈی یو ایس یو انتخابات کے لئے دونوں کیمپس کے کالجوں میں صبح 8.30 بجے سے شام 7.30 بجے تک پولنگ ہوگی۔ ان انتخابات کے نتائج کا اعلان کل جمعرات یعنی 13 ستمبر کو ہوگا اور ان سے شہری نوجوانوں کی سیاسی دلچسپی کا اندازہ ہوگا۔ دہلی یونیورسٹی کے چناؤ توجہ کا مرکز ہوتے ہیں اور اس سے نہ صرف نوجوانوں کے سیاسی رجحانات کا اندازہ لگتا ہے بلکہ مستقبل کے رہنما بھی انہیں انتخابات سے نکلتے ہیں۔

Published: 12 Sep 2018, 5:14 AM