کووڈ کی وجہ سے کئی روایتی کشش کے حامل دستے پریڈ سے غیر حاضر رہیں گے

یوم جمہوریہ کے موقع پر راج پتھ پر منعقد پریڈ پر بھی اس بار کورونا کا سایہ نظر آئے گا اور یہ لال قلعہ کے بجائے نیشنل اسٹیڈیم پر ختم ہو جائے گی، کئی روایتی کشش کے حامل دستے بھی پریڈ سے غیر حاضر رہیں گے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ملک کے 72ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر راج پتھ پر منعقد پریڈ پر بھی اس بار کووڈ کا سایہ نظر آئے گا اور یہ لال قلعہ کے بجائے نیشنل اسٹیڈیم پر ہی ختم ہوجائےگی اور کئی روایتی کشش کے حامل دستے بھی پریڈ سے غیر حاضر رہیں گے۔

کووڈ کی وجہ سے سماجی دوری کو دھیان میں رکھتے ہوئے پریڈ میں حصہ لینے والے مارچنگ دستوں کا سائز بھی چھوٹا کیا گیا ہے، ریٹائرڈ فوجیوں کا دستہ پریڈ میں ہوگا ہی نہیں،موٹرسائکل پر حیرت انگیز کرتب دکھانے والا دستہ بھی نہیں ہوگا اور ساتھ ہی شائقین کی تعداد بھی کافی کم کی گئی ہے۔ حالانکہ بنگلہ دیش کی تینوں فوجوں کا مارچنگ دستہ اس بار کی پریڈ میں بڑی توجہ کا حامل ہوگا۔ ویسے پریڈ کے وقت میں کمی نہیں کی گئی ہے۔

پریڈ کے سیکنڈ ان کمانڈ افسر اور فوج کے دہلی ایریا کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل آلوک ککڑ نے پریڈ کے بارے میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ اس بار کووڈ کی وجہ سے پریڈ میں کئی روایتی کشش دیکھنے کو نہیں ملیں گی۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو کووڈ کی وجہ سے پریڈ کی دوری کم کرکے اسے لال قلعہ کے بجائے نیشنل اسٹیڈیم پر ختم کیا جائےگا۔ دوسرے اس بار مارچنگ دستوں میں شامل جوانوں کی تعداد 144 کے بجائے کم کرکے 96 کی گئی ہے۔

کووڈ کی وجہ سے سابق فوجیوں کا دستہ بھی راج پتھ پر نہیں دکھائی دےگا۔ اپنے حیرت انگیز کرتبوں سے شائقین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے والے موٹرسائکل دستے کے جانباز جوان بھی اس بار راج پتھ پر پریڈ کی شان نہیں بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ کے پیش نظر اس بار صرف 25 ہزار شائقین کو ہی راج پتھ پر پریڈ دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ پریڈ کے وقت میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دوسری بار کسی غیر ملکی فوج کا دستہ راج پتھ پر قدم تال کرتا نظر آئے گا۔ اس بار بنگلہ دیش کی تینوں فوجوں کے 122 جوانوں کا دستہ بھی پریش میں شامل ہوگا۔ بنگلہ دیش کے دستے میں جوان اور بینڈ دونوں شامل ہوں گے۔اس سے پہلے سال 2016 میں فرانس کی فوج کے دستے نے پریڈ کی شان بڑھائی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    next