بجنور: شوہر بے روزگار تھا، بچے بھوکے، خاتون نے موت کو گلے لگایا

خودکشی کے بعد کسم کے گھر کے باہر جمع لوگ

پڑوسیوں کے مطابق کسم ایک خوددار خاتون تھی، تین دن سے اس کے گھر میں آٹا نہیں تھا لیکن اس نے کسی سے کچھ نہیں مانگا۔

نہٹور: ہوائی جہاز سے ہوائی چپل تک ملک میں تیار کرنے کا دعوے کرنے والی حکومت کے ذریعہ خود کی تعریف میں لگائے جا رہے نعروں کے درمیان اتر پردیش کے بجنور ضلع میں کلیجا چھلنی کر دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ مفلسی سے تنگ آکر ایک غریب خاتون نے اپنی دو بچیوں کے ساتھ خود کشی کر لی۔ ایک بچی کی تو موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ دوسری زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ انسانیت کو شرمسار کر دینے والا یہ واقعہ بجنور ضلع کے نہٹور واقع بیرم نگر میں پیش آیا۔

خودکشی کرنے والی کُسُم کا شوہر اینٹ بھٹے پر کام کرتا تھا لیکن اس کا کام چھوٹ گیا اور وہ شراب پینے لگا۔ خاندان کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ کھانے کے بھی لالے پڑ گئے۔ پڑوسیوں کے مطابق کسم ایک خوددار خاتون تھی۔ تین دن سے اس کے گھر میں آٹا نہیں تھا لیکن اس نے کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ چار بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھ کر وہ ٹوٹ گئی۔ کسم کی موت کے باوجود حکومت اور انتظامیہ نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غربت کے مارے اس خاندان کو مالی امداد دینے سے انکار کر دیا۔ مقامی ایس ڈی ایم ویریندر موریا کے مطابق خاتون کا گھر پختہ ہے، اس کا راشن کارڈ بھی بنا ہوا ہے۔ لہذا اس کے خاندان کو معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔

سابق رکن اسمبلی شیش رام سنگھ کے مطابق ’’یہ صورت حال بے حد شرمناک ہے اور حکومت اپنی جوابدہی سے بچ نہیں سکتی۔ بھٹے پر کام کرنے والے مزدور سال کے آٹھ مہینے بے روزگار رہتے ہیں۔ یہ دلیل بھی مضحکہ خیز ہے کہ مہلوکین کا مکان پکّا ہے۔ معاشی تنگی کا شکار پکّے گھر والے بھی تو ہو سکتے ہیں۔‘‘

موت کو گلے لگا چکی کسم کے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔ جس وقت اس نے اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ زہر کھایا اس وقت بڑے بچے اسکول گئے ہوئے تھے۔ کافی وقت سے بچوں کی اسکول فیس بھی نہیں دی جا سکی تھی۔ المیہ یہ ہے کہ بجنور انتظامیہ اس واقعہ کا رُخ تبدیل کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے اور یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ کسم نے غربت سے عاجز آکر ہی خود کشی کی ہے۔

حالانکہ گاؤں کے پردھان سریندر سنگھ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسم کا خاندان معاشی تنگی کا شکار تھا۔ اکثر پڑوسی ان کی بات چیت سن لیا کرتے تھے۔ چونکہ کسم ایک خوددار خاتون تھی اس لئے اس نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ پچھلے دنوں اس نے ایک گائے خریدی تھی جس کا دودھ بیچ کر وہ خاندان چلا رہی تھی۔ اس کا شوہر سکھبیر ہر وقت نشہ میں رہتا تھا۔ کسم کی موت کے بعد پڑوس کی عورتوں کو اس کے گھر میں آٹا نہیں ملا۔ بڑی بیٹی نے بتایا کہ گھر میں پچھلے تین دن سے کھانا نہیں بنا تھا۔

سابق پردھان راجندر سنگھ بھی معاشی تنگی کو ہی کسم کی خود کشی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسم کا شوہر سکھبیر کافی دنوں سے بیمار تھا اور محنت مزدوری بھی نہیں کر پاتا تھا۔ کسم خاندان کو پالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ ہار گئی۔

کسم نے جب اپنی چھوٹی بیٹی نشی اور خوشی کے ساتھ زہر کھا کر جان دی، اس وقت دینو اپنے بھائی ریتک کے ساتھ اسکول گئی تھی اور سکھبیر کہیں کام کی تلاش میں گیا ہوا تھا۔ کسم کی دوسری بیٹی نشی کو خطرے سے باہر بتایا جا رہا ہے جبکہ خوشی کی موت ہو گئی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اتر پردیش میں بھوک کی وجہ سے کسی نے خود کشی کی ہے۔ اس سے قبل جولائی میں بریلی میں بھی اس طرح کا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہاں کی آنولا تحصیل میں دو مہینے قبل اترچھڑی گاؤں میں راجوتی نام کی خاتون نے اپنی بیٹی رانی کے ساتھ معاشی تنگی سے پریشان ہو کر جان دے دی تھی۔ جولائی میں ہی کشی نگر میں ایک شادی شدہ جوڑے نے بچوں کے ساتھ خود کشی کر لی تھی۔ حالانکہ مقامی انتظامیہ نے اس واقعہ کا ذمہ دار غربت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

سماجی تنظیم ’اَستیتو‘ کے کنوینر شاداب انصاری کہتے ہیں ’’غریبی ہٹاؤ کے نعرے کے درمیان غریب ہی ہٹ رہے ہیں۔ سرکاری افسر بہانہ بنا کر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ سماج میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بے روزگاری کی وجہ سے معاشی تنگی کا شکار ہیں۔ دوسری طرح حکومت کے روزگار دینے والے منریگا جیسے منصوبوں میں بدعنوانی آسمان پر پہنچ گئی ہے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول