گاندھی جی کی آمد کی خبر سے ہی انگریزوں نے کسانوں پر درج معاملات واپس لے لیے تھے!

چھتیس گڑھ کے کنڈیر میں کسانوں کے ’ستیہ گرہ تحریک‘ میں بابائے قومی گاندھی جی کے آنے کی خبر ملتے ہی انگریز افسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

رائے پور: چھتیس گڑھ کے کنڈیرمیں کسانوں کے ’ستیہ گرہ تحریک‘ میں بابائے قومی گاندھی جی کے آنے کی خبر ملتے ہی انگریزافسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ انہوں نے کسانوں کے خلاف پانی کی چوری کے سلسلے میں درج کاروائی کی رپورٹ واپس لے لی تھی۔
اگست 1920 میں غیر منقسم ضلع رائے پور کے موضع کنڈیل میں انگریز حکومت کے محکمہ آبپاشی نے کنڈیل کے کسانوں پر نہر سے پانی چوری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اگست کا مہینہ تھا، شدید بارش ہورہی تھی اور کھیتوں میں کافی پانی تھاتاہم کسانوں پر نہر سے پانی چوری کرنے کا غلط الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔اس کے خلاف کنڈیل میں کسانوں کا ’ستیہ گرہ‘ چھوٹے لال شریواستو کی قیادت میں شروع ہوا۔ ستیہ گرہ کو پنڈت سندرلال شرما اور پنڈت نارائن راؤ میگھاوالے بھی حمایت کررہے تھے۔

انگریزحکومت نے زبردستی سینچائی ٹیکس وصولنے کے لیے استحصال کی پالیسی اختیار کی تھی۔ الزامات بےبنیاد تھےلہٰذا کسان بھی ٹیکس نہ دینے پر بضد تھے۔ استحصال کی پالیسی کے سبب کھیتی۔کسانی کے دنوں میں کسانوں کے مویشی ضبط کر لیے گئےتھے اور 4030 روپیے کا جرمانہ عائد کر دیا گیا تھا۔ دونوں فریق بضد تھے اور کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں تھا۔ اسی دوران بال گنگا دھر تلک کی موت ہوگئی اور کانگریس کی باگ ڈور گاندھی کے ہاتھوں میں آگئی۔

انگریز حکومت کے استحصال کے رویے کو دیکھتے ہوئے تحریک کی قیادت گاندھی جی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پنڈت سندرلال شرما گاندھی جی کو لینے 02 دسمبر کو کلکتہ گئے۔ وہ انھیں لے کر 20دسمبر1920 کو رائےپور پہنچے۔ گاندھی جی کے ساتھ ’خلافت تحریک‘ کے اہم رہنما شوکت علی اور محمد علی بھی آئے۔

گاندھی جی کی آمد کی اطلاع ملتے ہی محکمہ آبپاشی کے افسران کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے اور انہوں نے کسان مخالف حکمنامہ واپس لے لیا تاہم گاندھی جی آئندہ روز 21 دسمبرکو عباس بھائی کی موٹر سے علی برادران کے ساتھ دھمتری پہنچے۔ مکئی بندھ چوک میں گاندھی جی کو دیکھنے کے لیے عوامی سیلاب امنڈ آیا تھا۔ تقریر کا انتظام سیٹھ حسین کے باڑے میں کی گئی تھی۔ شدید عوامی سیلاب کی وجہ سے گاندھی جی کا جائے پروگرام تک پہنچ پانا غیر ممکن تھا اسی دوران غرور کے کچھی تاجرعمر سیٹھ نے گاندھی جی کو اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور اسٹیج تک لے گئے۔

تقریباًتقریباً ایک گھنٹے کے خطاب کے دوران گاندھی جی نے سچ،عدم تشدد کی بنیاد پر ’ستیہ گرہ‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کنڈیر نہر ستیہ گرہ کے کامیاب انتظام کے لیے چھوٹے لال بابو، نارائن راؤ میگھاوالے اور سندرشرما کا ذکر کیا۔ دھمتری سے لوٹ کرگاندھی جی نے رائے پور کے کنکالی پارہ واقع آنندسماج دارالمطالعہ کےبازو کے میدان میں ایک عظیم ریلی سے خطاب کیا۔ اس مقام پر نوٹس کورٹ تھا۔ جس اسٹیج سے انہوں نے ریلی سے خطاب کیا تھا اس پر ایک رات پہلے ہی ’بھیشم پِتامَہ‘نامی ڈارمہ پیش کیا گیا تھا۔ڈرامہ میں برہمن پارہ کے عوام نے اداکاری کی تھی۔

ریلی کے بعد گاندھی جی کے تئیں عقیدت رکھنے والوں نے اسٹیج کی ایک ایک اینٹ از راہِ یادگار اپنے پاس رکھ لی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسٹیج کانام و نشان تک باقی نہ رہا۔ دورانِ قیام گاندھی جی ’تلک سوراج فنڈ‘کے لیے رقم جمع کر رہے تھے۔ انھیں نقد،سونے اور چاندی کے زیورات عطیہ کے طور پر حاصل ہوئے تھے۔ انہوں نے رائے پور تاتیاپارہ میں خواتین کی ریلی سے خطاب کیا۔ بڑی تعداد میں مسلم خواتین ریلی میں شریک ہوئی تھیں۔ خواتین نے جی کھول کر ’تلک سوراج فنڈ‘ میں عطیہ کیا۔

گاندھی جی نے ان ریلیوں میں ’تحریک عدم تعاون‘ کے خدوخال پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ علی برادران نے ’خلافت تحریک ‘ پر تقریر کرتے ہوئے ہندومسلم اتحاد پر زور دیا۔ گاندھی جی پرانی بستی کے جَیتوساؤ مٹھ گئے۔ گاندھی جی کو موٹر میں بٹھاکر دھتری لے جانےکی سزا عباس بھائی کو جلد مل گئی۔ ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی رائے پور بس سروس کا لائسنس رد کر دیا گیا۔ گاندھی جی رائے پور سےبراہ راست ناگپور گئے۔ وہاں کانگریس مجلس عاملہ کی میٹنگ تھی۔

Published: 2 Oct 2019, 2:10 PM