دبئی کا ایماندار نظام! ہندوستانی خاتون کے ذریعہ غلطی سےکوڑے میں پھینکا گیا سونا پولیس نے واپس لوٹایا

اپنے وطن سے دور دبئی میں پیش آئے حیرت انگیز واقعہ کے بعد متاثرہ ہندوستانی شہری کامنی کانن نے کہا کہ دبئی واقعی ایک حیرت انگیز شہر ہے۔ یہاں کے نظام کی ایمانداری اور نظام کی برابری کوئی نہیں کرسکتا۔

<div class="paragraphs"><p>دبئی پولیس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دبئی کے نظام کی ایمانداری کا اندازہ حال ہی میں سامنے آئے ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے، وہ بھی تب جب بات سونے جیسی قیمتی چیز کی ہو۔ تصور کریں، کیا آپ امید کرسکتے ہیں کہ اگر کوئی چیز غلطی سے کوڑے میں چلی جائے تو وہ دوبارہ ملے جائے؟ دبئی میں ایسا ہوا ہے۔ ایک حالیہ واقعہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ دبئی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ وہاں کی ایمانداری اور انتظامات اتنے مضبوط ہیں کہ کوڑے میں پھینکی گئی قیمتی چیز بھی واپس مل سکتی ہے۔ تصور کریں، کیا غلطی سے کچرے میں پھینکی گئی کوئی چیز واپس مل سکتی ہے؟ خاص طور پر جب بات سونے جیسی قیمتی چیز کی ہو، لیکن ایک واقعہ ثابت کرتا ہے کہ دبئی میں یہ بھی ممکن ہے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک ہندوستانی خاتون کے ساتھ ہوا یہ ناقابل یقین واقعہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہواہے۔ 23 سال تک یواے ای میں رہنے کے بعد ہندوستان واپس ہوچکی کامنی کانن ایک شادی میں شامل ہونے دبئی پہنچیں۔ وہیں انہوں نے اپنی دیرینہ سرمایہ کاری کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جنوری کے آخر میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے انہوں نے پرانا پاؤچ بدل کر سونا ایک نئی تھیلی میں رکھ دیا۔ اس تھیلی میں 22 قیراط سونے کے 4 سکے تھے، جن میں سے ہر ایک کا وزن 8 گرام تھا، اور 50 گرام 24 قیراط سونے کی بار بھی تھی۔ کل مالیت تقریباً 50 ہزار درہم یا تقریباً 12.32 لاکھ روپے تھی۔ تاہم گھر کی صفائی کے دوران غلطی سے تھیلی کچرے میں پھینک دی گئی۔ گھر والوں کو اس بات کا پتہ بھی نہیں چلا۔


دوسرے دن صبح جب سونے کی تلاش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ کامنی کے بیٹے ابھیمنیو نے نادانستہ طور پر تھیلی کوڑے میں پھینک دی تھی۔ سبھی کا خیال تھا کہ کچرے میں پھینکی گئی چیز کبھی واپس نہیں مل سکتی، اس لیے انہوں نے پولیس میں شکایت تک نہیں کرائی۔ انہیں پورا یقین تھا کہ اب اس نقصان کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ لیکن واقعات نے اچانک موڑ لیا۔ 3 دن بعد 4 فروری کو ابھیمنیو کو بلڈنگ گارڈ کا فون آیا جس میں انہیں بتایا گیا کہ کوئی شخص گمشدہ چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ گارڈ نے انہیں بتایا کہ پولیس ان سے رابطہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ سن کر گھر والے حیران رہ گئے۔

درحقیقت کوڑا اٹھانے والے ایک ملازم کو وہ تھیلی ملی تھی، جسے وہ براہ راست دبئی گولڈ سوک لے گیا جہاں افسران نے قیمتی سونا دیکھا اور فوری طور پر اس سے پوچھ گچھ کی۔ ملازم نے ایمانداری سے بتایا کہ اسے یہ سامان کوڑے دان میں ملا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے اپنے نظام کا استعمال کرتے ہوئے پتہ لگایا کہ کوڑا کس عمارت اور کس بیگ سے آیا تھا۔ ابھیمنیو کو نائف پولیس اسٹیشن بلایا گیا، جہاں ان سے سونے کی تصاویر، رسیدیں اور ملکیت کے کاغذات مانگے گئے۔ چند گھنٹوں کی کارروائی کے بعد سارا سونا انہیں بحفاظت واپس کر دیا گیا۔ کامنی کانن نے کہا کہ دبئی واقعی ایک حیرت انگیز شہر ہے۔ یہاں کے نظام کی ایمانداری اور نظام کی برابری کوئی نہیں کرسکتا۔