این سی آر میں آلودگی اور کڑاکے کی سردی کی دوہری مار، زہریلی فضا میں سانس لینے پر مجبور عوام

این سی آر میں شدید آلودگی اور کڑاکے کی سردی نے زندگی مشکل بنا دی۔ ہلکی بارش اور کہرے کے باوجود فضائی معیار سنگین ہے۔ ماہرین نے بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو احتیاط کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نوئیڈا: قومی راجدھانی خطہ این سی آر ایک بار پھر شدید آلودگی اور کڑاکے کی سردی کے دوہرے بحران کی زد میں ہے۔ جمعہ کی صبح ہلکی بارش اور دن بھر چھائے رہنے والے کہرے کے باوجود فضائی معیار میں کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے کو نہیں ملی۔ سرد موسم، کم ہوا کی رفتار اور نمی کے امتزاج نے آلودہ ذرات کو فضا میں جکڑ رکھا ہے، جس کے نتیجے میں عام زندگی متاثر ہو رہی ہے اور صحت سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 9 جنوری کو صبح اور دوپہر کے اوقات میں درمیانے سے گھنے کہرے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 17 ڈگری اور کم سے کم 6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 10 اور 11 جنوری کو بھی کہرے کی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حدِ نگاہ میں کمی کے باعث سڑک اور ریل ٹریفک متاثر ہے، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دہلی کے مختلف علاقوں میں فضائی معیار اشاریہ انتہائی خراب سے سنگین درجوں میں ریکارڈ ہوا۔ آر کے پورم اور آنند وہار میں اشاریہ 388، اوکھلا فیز دوم میں 382، پٹپڑ گنج میں 364، سری فورٹ میں 365 اور ڈاکٹر کرنی سنگھ شوٹنگ رینج کے علاقے میں 366 درج کیا گیا۔ پنجابی باغ، چاندنی چوک، روہنی، سونیا وہار اور شری اربندو مارگ جیسے علاقوں میں بھی صورتحال نہایت تشویش ناک رہی۔


نوئیڈا میں بھی حالات حوصلہ افزا نہیں رہے۔ سیکٹر 125، سیکٹر ایک، سیکٹر 116 اور سیکٹر 62 میں فضائی معیار اشاریہ خراب سے سنگین حدوں کے قریب پایا گیا۔ غازی آباد کے وسندھرا، لونی اور اندرا پورم میں بھی آلودگی کی سطح بلند رہی، جبکہ گریٹر نوئیڈا کے نالج پارک سوم اور پنجم میں اشاریہ سنگین درجے کے قریب پہنچ گیا۔

ماہرین کے مطابق گھنا کہرا، ٹھنڈی ہوائیں اور کم فضائی گردش آلودہ ذرات کو منتشر ہونے سے روک رہی ہیں، جس کے باعث آلودگی مسلسل برقرار ہے۔ صحت کے ماہرین نے بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماسک کے استعمال، صبح کی سیر سے گریز اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے پرہیز کی اپیل کی گئی ہے تاکہ صحت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔