غازی آباد میں ’لو جہاد‘ کا ڈرامہ فلاپ!

غازی آباد میں سابق ڈی ایم کے بیٹے کو اپنی ڈاکٹر بیٹی کی شادی دوسرے مذہب میں کرنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بھگوا تنظیموں نے اسے ’لوجہاد‘ کا نام دینے کی کوشش کی اور ان کا پورا ڈرامہ فلاپ ہو گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر کے بیٹے انس سلیم نے اے ایم یو میں زیر تعلیم پرینکا (بدلا ہوانام)سے محبت کی اور جمعہ کو یہ محبت پروان بھی چڑھی ۔ غازی آباد کے پاش علاقہ میں انس سلیم بارات لے کر پہنچے تو پرینکا کے گھر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ انس نوئیڈا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہے اور پرینکا ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بنگلورو سے پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔

ملک بھر کے تازہ ماحول اور نفرت کی زہر آلود فضا کے درمیان یہ جوڑہ قانونی طور پر ایک دوسرے کا ہوا ہے۔ دونوں نے غازی آباد کورٹ میں اپنی شادی کو رجسٹرڈ کرایا ہے۔ پرینکا کے انکل کا کہنا ہے ’’ دونون دوست ہیں، تعلیم یافتہ ہیں اور ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں۔ انس تو اس بات پر بھی راضی تھا کہ مندر میں شادی کر لیتے ہیں ، لیکن پرینکا نے کہا کہ نکاح کریں گے۔ ‘‘ پرینکا کے انکل کی باتوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ انس کا عرصہ دراز سے پرینکا کےغازی آباد واقع رہائش گاہ پر آنا جانا ہے اور دونوں کے خاندان کے افراد بھی ایک دوسرے سے واقف ہیں یہاں تک کہ انس کے والد بھی کئی بار پرینکا کےگھر آ چکے ہیں۔

انس کے نزدیکی لوگوں کے مطابق شادی اچانک نہیں ہوئی بلکہ انس اور پرینکا نے پہلے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھا اور پھر دونوں کے خاندانوں نے ملاقاتیں کیں ۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
گھر میں گھسنے کی کوشش میں پولس کے ہاتھوں پٹتا ایک بی جے پی کارکن

گزشتہ ہفتہ غازی آباد میں میرج رجسٹر ہوئی اور جمعہ کو وداعی کی تقریب تھی ۔ غازی آباد کے ایس ایس پی ہری نارائن سنگھ کے مطابق بی جے پی کے لوگوں نے اس کی مخالفت کی اور زبردستی شادی تقریب میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ راج نگر غازی آباد کا سب سے پاش علاقہ ہے جہاں اطلاع ملنے کے ساتھ ہی ایس پی سٹی آکاش تومر کی قیادت میں 8 تھانوں کی پولس پہنچی ۔ آر ایس ایس اور بی جےپی سے وابستہ افراد کا الزام ہے کہ آکاش تومر کے اشارے پر ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

مقامی چشم دیدوں کے مطابق بی جے پی اور ہندو تنظیموں سے وابستہ افراد تقریب کی مخالفت کر رہے تھے اور بنگلے میں اندر گھسنے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں پولس باہر روکے ہوئے تھی۔ ہندو تنظیموں کے لوگ بی جے پی کے شہر صدر اجے شرما کی قیادت میں جمع ہوئے تھے۔ اجے شرما کا کہنا ہے ’’ لڑکے نے محبت کے جال میں پھنسا کر ایک مہذب خاندان کی لڑکی کے ساتھ لو جہاد کیا ہے۔ لڑکے والے لڑکی کو لینے آئے تھے جس کی ’دھرم رکشا ‘ کے تحت ہم نے مخالفت کی ۔ اس پر پولس نے ہمیں دوڑا دوڑا کر پیٹا۔ ‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
ہنگامہ کرتے بی جے پی کے کارکنان

اجے شرما کا مزید کہنا ہے ’’ ریاست میں اس وقت ہماری حکومت ہے اور میں نے اس کی شکایت وزیر اعلیٰ سے کی ہے۔ اس کے بعد بی جے پی کے لوگوں نے جام لگا دیا ۔‘‘ راج نگر ۔ہاپوڑ روڈ کو جام کرنے کے سبب تقریباً 2 گھنٹے تک گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر رہی ۔ بعد میں ایس ایس پی ہری نارائن سنگھ موقع پر پہنچے اور پورے معاملہ کی جانچ کرانے کی یقین دہانی کی ۔

سماجوادی پارٹی کی ویمن ونگ (نسوانی شعبہ )کی شہر صدر ریتو کھنہ کا کہنا ہے ’’ دو پڑھے لکھے ایک دوسرے کو سمجھنے والے لڑکا لڑکی شادی کر رہے ہیں ۔ ان کے خاندان والےمتفق ہیں۔ ایسے حالات میں بھی بھاجپائی ہنگامہ کر رہے ہیں دراصل شر پسندعناصر ہندوستان کو طالبانی بنانے کی جلد بازی میں ہیں۔ ‘‘

شام دیر گئے پرینکا کے والد کی طرف سے مقامی سی او (سرکل آفیسر) سیکنڈ آتش کمار کو بی جے پی کارکنان کے خلاف تحریر دی گئی ہے جس پر تا حال کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ ہنگامہ کے بعد سے دولہا و دلہن اپنے نئے گھر چلے گئے ہیں جہاں پولس انہیں سکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔

ایم ایل سی آشو ملک اس معاملہ پر کہتے ہیں ’’ یہ دل کا معاملہ ہے اور اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا کیوں کہ محبت مجنو ں کی وہ آواز ہے جس کے آگے کوئی لیلیٰ کسی دیوار سے روکی نہ گئی۔‘‘ جب کہ بجرنگ دل کے بلراج ڈونگر کے مطابق ’’یہ عشق نہیں بلکہ محبت کا جال ہے اگر محبت ہوتی تو لڑکے نے جہیز کے ایک کروڑ روپے اور فلیٹ لینے سے انکار کیوں نہیں کر دیا؟‘‘

(دولہا اور دلہن کے نام ان کی شناخت کو راز رکھنے کے ارادے سے تبدیل کر دئے گئے ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Dec 2017, 4:18 PM