قومی

چھتیس گڑھ: 50 کروڑ کا گھوٹالہ کر فرار ہو گیا رمن سنگھ کا داماد

رمن سنگھ کے داماد پنیت گپتا پر رائے پور کے ڈی کے ایس سرکاری سپر اسپیشلٹی اسپتال میں سرکاری عہدہ پر رہتے ہوئے تقریباً 50 کروڑ روپے کے گھوٹالہ کا الزام ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ کے داماد کی مشکلیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ تحقیقاتی افسر نے رمن سنگھ کے داماد پنیت گپتا پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ ان پر رائے پور میں داؤ کلیان سنگھ (ڈی کے ایس) سرکاری سپر اسپیشلٹی اسپتال میں سرکاری عہدہ پر رہ کر تقریباً 50 کروڑ روپے کے گھوٹالہ کا الزام ہے۔ پنیت گپتا پر تقرری میں دھاندلی کرنے، فرضی خریداری کرنے، اوور اسپیٹنگ اور جھوٹی آڈٹ رپورٹ پیش کر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے۔ ان پر کئی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس وقت پنیت گپتا گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار بتائے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں گزشتہ ہفتہ ہی چھتیس گڑھ پولس نے بی جے پی کے قومی نائب صدر اور تین بار کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کے داماد پر ایف آئی آر درج کی تھی۔

ایک دیگر معاملے میں ان پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ دراصل پنیت گپتا پر بستر کے انتا گڑھ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں اجیت جوگی، امت جوگی اور اس وقت کے وزیر راجیش مونت کے ساتھ کانگریس امیدوار کو کروڑوں روپے دے کر ان کا نام واپس کروانے کی سازش تیار کرنے کا الزام بھی ہے۔ اس معاملے میں نچلی عدالت سے ان کی ضمانت کی عرضی خارج ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ جنوری 2016 سے جنوری 2019 تک پنیت گپتا ڈی کے ایس اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر کام کر رہے تھے۔ ان پر 50 کروڑ روپے کے گھوٹالہ کا الزام ہے اور پولس نے اس معاملے میں ان کے خلاف مجرمانہ سازش، جعلسازی اور دھوکہ دہی کے الزام میں کیس درج کیا۔ کیس نئے ڈی کے ایس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کے کے سہارے کے ذریعہ پولس میں دی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا، جنھوں نے چھتیس گڑھ سرکار کے ذریعہ تشکیل کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔

قابل غور ہے کہ ڈاکٹر سہارے کی شکایت تفصیل سے جانچ رپورٹ کا حوالہ دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ 8 مارچ کو کمیٹی کے ذریعہ جانچ کرنے اور اسپتال میں ٹنڈر عمل میں شامل لوگوں سے بات کرنے کے بعد پیش کی گئی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ سابق اسپتال سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر پنیت گپتا نے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا۔ عوام کے پچاس کروڑ روپے کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کے لیے انھوں نے اپنی پہنچ کا استعمال کیا۔ خود اور دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جعلی دستاویز اور ایک نقلی آڈٹ رپورٹ تیار کی۔ ڈاکٹر گپتا نے سرکاری ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔ انھوں نے نااہل لوگوں کی تقرری کی اور مالی ثبوت بھی چھپائے۔

پنیت گپتا پر منمانی کرنے، بغیر کسی ٹنڈر، آڈٹ اور ایپرووَل کے کروڑوں روپے کی سامان خرید کا بھی الزام ہے جس کا کوئی استعمال ہی نہیں تھا۔ اسی طرح ان پر جگدل پور نرسنگ کالج کے لیے ملے 5.75 کروڑ روپے کو اپنے این جی او میں استعمال کرنے کے بھی الزامات ہیں۔ انھوں نے اپنی تقرری اور پروموشن کے لیے پوسٹ گریجویٹ کے جو سرٹیفکیٹ لگائے ہیں وہ بھی میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا کے پیمانوں کے تحت نہیں ہیں۔ معاملے کے شکایت دہندہ ڈاکٹر کمل کشور سہارے اور ڈاکٹر راکیش گپتا نے بتایا کہ اس معاملے کی شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملے سے جڑے دستاویزوں کی اصل فائلیں دفتر سے غائب ہیں۔ یہ مانا جا رہا ہے کہ سبھی فائلیں ڈاکٹر گپتا لے گئے ہیں۔ اپنی گرفتاری کے خوف سے ڈاکٹر گپتا فرار ہیں اور شکایت دہندگان نے ان کے بیرون ملک بھاگ جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ ضبط کرنے کا مطالبہ پولس سے کیا ہے۔

(پرمود اگروال کی رپورٹ)