ڈاکٹر کفیل خان ممبئی میں گرفتار، اے ایم یو میں اشتعال انگیز تقریر کا الزام

یو پی ایس ٹی ایف نے ڈاکٹر کفیل خان کو ممبئی میں گرفتار کیا اور اسے لے کر لکھنؤ آ گئی۔ ڈاکٹر کفیل خان جمعرات کو ’ممبئی باغ‘ میں شہریت قانون کے خلاف ہو رہے دھرنا و مظاہرہ سے خطاب کرنے والے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس نے بدھ کے روز ڈاکٹر کفیل خان کو ممبئی میں گرفتار کیا۔ گرفتاری کے بعد ڈاکٹر کفیل کو ممبئی کے سہر پولس اسٹیشن میں پولس نگرانی میں رکھا گیا جہاں سے اتر پردیش لے جایا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ اس مظاہرے کے تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے، گویا کہ بیان دیے جانے کے ایک مہینے بعد ڈاکٹر کفیل خان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

دراصل 12 دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انھوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے مظاہرے میں ایک تقریر کی تھی جس کے بعد 13 دسمبر کو ان کے خلاف علی گڑھ کے سول لائنس پولس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے کے تحت کیس درج کیا گیا۔ اسی کیس میں کارروائی کرتے ہوئے اتر پردیش ایس ٹی ایف نے ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر کفیل کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریباً 600 طلبا کو خطاب کیا تھا۔ اس دوران انھوں نے شہریت قانون کو لے کر اشتعال انگیز بیان دیا۔ کفیل خان جمعرات کو ممبئی واقع ’ممبئی باغ‘ میں ہو رہے غیر معینہ مدت کے دھرنا میں شامل ہونے کے لیے وہاں گئے تھے۔ ’ممبئی باغ‘ میں آج (30 جنوری) 11 بجے انھیں پہنچنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی پولس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ایس ٹی ایف کی ٹیم انھیں لے کر لکھنؤ پہنچ چکی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اے ایم یو میں تقریر دیتے ہوئے انھوں نے بغیر نام لیے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کفیل خان نے ماحول کو زہر آلود کرنے کی کوشش کی۔ فی الحال اتر پردیش لائے جانے کے بعد ایس ٹی ایف ان سے پوچھ تاچھ کرے گی۔ غور طلب ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو سال 2017 میں گورکھپور کے بی آر ڈی کالج میں بچوں کی موت پر لاپروائی برتنے کے الزام میں معطل کیا گیا تھا۔ کفیل خان کو یو پی پولس نے گرفتاری بھی کیا تھا، حالانکہ جانچ میں وہ بے قصور پائے گئے تھے۔