ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام حب الوطنی، ہندو-مسلم تہذیب کا سنگم اور تعلیمی ترقی کی بہترین مثال تھے: اندریش کمار

اندریش کمار نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو تعلیم و ترقی اور ہندوستانی طلبہ کے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی بھر طلبہ سے مخاطب رہے اور ان کا انتقال بھی طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ہوا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کوحب الوطنی، ہندو-مسلم تہذیب کا سنگم اور تعلیمی ترقی کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے سرپرست اندریش کمار نے کہا کہ ڈاکٹر کلام نے جو محنت اور جہدو جہد کا راستہ دکھایا ہے اس پر عمل کرکے ہی ہندوستان کو ’وشو گرو‘ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے ایم آر ایم کی طرف سے ڈاکٹر کلام کے یوم پیدائش کو ’یوم طلبہ‘ منانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو تعلیم و ترٰقی اور ہندوستانی طلبہ کے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی بھر طلبہ سے مخاطب رہے اور ان کا انتقال بھی طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ہوا۔

اندریش کمار نے کہا کہ وہ ہمیشہ طلبہ کو ترغیب اور تحریک دینے کے لئے بے چین رہتے تھے اور وہ درحقیقت تعلیم اور ترقی کے رول ماڈل تھے جس کو اپنا کر ہی ہندوستان کی تعلیمی ترقی اور ہمہ جہت ترقی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر نبی آخری الزماں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر آئے، لیکن آخری رسول نے یہ نہیں کہا کہ صرف میری پیروی کرو بلکہ یہ کہا کہ ان سب کو مانو اور سب کا احترام کرو۔ اس سے بڑھ کر سیکولرزم کی مثال کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سب کے احترام کی بات کی جائے وہاں فساد ہو ہی نہیں سکتا اور ہمارے ڈاکٹر کلام انہی فلسفہ کے علمبردار تھے۔


اندریش کمار نے کہا کہ ڈاکٹر کلام کا راستہ حب الوطنی کا تھا انہوں نے نفرت کے راستے سے نکال کر محبت کا راستہ دکھایا جو ملک کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ کسی کے کام میں دخل نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کلام کا خیال تھا کہ تعلیم ملک کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ صرف ذاتی فائدے کے لئے۔ اردو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں اردو بے گھر ہوگئی ہے توان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اردو کا گھر تھا، ہے اور رہے گا۔ یہ زبان یہیں پیدا ہوئی ہے چاہے اس کی ترقی کہیں بھی ہو یا کہیں بھی پڑھائی جائے لیکن گھر تو ہندوستان ہی ہے۔

ایم آر ایم کے قومی کنوینر ڈاکٹر شاہد اختر نے ایم آر ایم کے سرپرست اندریش کمار کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آگے بڑھانا ہے تو ڈاکٹر کلام کے فلسفہ پر عمل کرنا ہوگا اور ان کی سوچ ملک کی ترقی کے لئے تھی۔ ملک کے طلبہ ان کی زندگی سے سبق حاصل کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کلام کی سوچ تھی کہ ملک کی ترقی پر مرکوز تعلیم ہونی چاہئے جس میں ملک سب سے آگے ہو۔ ایم آر ایم کے قومی کنوینر ڈاکٹر افضال نے کہا کہ ڈاکٹر کلام کی زندگی کو اپنی زندگی میں اتارنا ہی ان کے لئے بہترین خراج عقیدت ہوگا۔


قبل ازیں ایم آر ایم کے قومی کنوینر خورشید رضا نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کلام کے یوم پیدائش کو ’یوم طلبہ‘ منانے کا مقصد طلبہ میں محنت، جدوجہد اور لگن کا جذبہ پیدا کرنا ہے تاکہ یہاں کے طلبہ بھی ڈاکٹر کلام کے راستہ کو اختیار کرکے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں۔ اس پروگرام میں جواہر لال نہرو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔