’ڈبل انجن کا دلت مخالف چہرہ پھر بے نقاب‘، میرٹھ کی دلت طالبہ کے قتل پر کانگریس صدر کھڑگے کا تلخ تبصرہ

ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ متاثرہ خاندان انصاف کی اپیل کر رہا ہے، لیکن حکومت ان کی آواز سننے کے بجائے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی کچلنے میں مصروف ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب </p></div>
i

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتر پردیش کے میرٹھ میں دلت طالبہ للتا گوتم کے بہیمانہ قتل معاملہ پر بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر بی جے پی کی ’ڈبل انجن حکومت‘ کا خواتین اور دلت مخالف چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متاثرہ خاندان انصاف کی اپیل کر رہا ہے، لیکن حکومت ان کی آواز سننے کے بجائے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی کچلنے میں مصروف ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’میرٹھ کی دلت طالبہ للتا گوتم کے بے رحمانہ قتل نے بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت کا خواتین اور دلت مخالف چہرہ ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کی فریاد کر رہا ہے، لیکن حکومت اس کی آواز سننے کے بجائے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو ہی کچلنے میں لگی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق، 2013 سے 2024 کے درمیان ملک میں خواتین کے خلاف درج جرائم میں تقریباً 42.6 فیصد اور درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے خلاف جرائم میں تقریباً 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں ہر 2 گھنٹے 3 منٹ میں درج فہرست ذات کی ایک خاتون کے ساتھ عصمت دری ہوتی ہے، یعنی ہر روز 12 دلت خواتین کے ساتھ زیادتی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ بی جے پی حکومت میں خواتین، دلتوں اور محروم طبقات کی بڑھتی ہوئی غیر محفوظ صورتحال کا ثبوت ہیں۔‘‘


کانگریس صدر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب کانگریس کے لیڈران متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچتے ہیں تو انہیں گرفتار کیا جاتا ہے، نظر بند کیا جاتا ہے اور لاٹھی چارج کے ذریعے روکا جاتا ہے۔ وہ اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ ’’جب کانگریس کے لیڈران متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے پہنچتے ہیں تو انہیں گرفتار کیا جاتا ہے، نظر بند کیا جاتا ہے اور لاٹھیوں کے ذریعے روکا جاتا ہے۔ آخر یوگی حکومت کس سچ کو چھپانا چاہتی ہے؟ اپوزیشن کو خاندان سے ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ خاندان کی بات سن کر اسے انصاف دینے کے بجائے پولیس کے ذریعے استحصال کیوں کیا جا رہا ہے؟‘‘

ملکارجن کھڑگے نے ہاتھرس اور اناؤ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہاتھرس اور اناؤ میں بھی ملک نے دیکھا تھا کہ بی جے پی حکومت نے کس طرح متاثرین کی آواز دبائی اور اقتدار سے وابستہ لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔ اب میرٹھ میں بھی وہی جابرانہ رویہ دہرایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔ کھڑگے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’متاثرہ خاندان کو انصاف چاہیے، لاٹھیاں اور نظر بندی نہیں۔ قصورواروں کو سخت ترین سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کی آواز دبانا فوری طور پر بند کیا جائے۔‘‘


سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں کانگریس صدر نے بی جے پی حکومت کو سخت سیاسی انتباہ بھی دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’یاد رہے... دلتوں، محروموں اور مظلوموں کی آواز کا بلند ہونا بہت جلد بی جے پی کے اقتدار کی کرسی کو اکھاڑ پھینکے گا۔‘‘ کھڑگے کے اس بیان کے بعد میرٹھ واقعہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ کانگریس نے اس معاملے میں ریاستی حکومت پر انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔