’مچھر مارنے کے لیے تلوار مت چلاؤ‘، ایم سی اے پر کارروائی معاملہ میں ایف ڈی اے کو بامبے ہائی کورٹ نے لگائی پھٹکار

عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’’غذائی تحفظ کے قواعد نافذ کرنا ضروری ہے، مگر کارروائی کا مقصد بہتری ہونا چاہیے۔ ہر کمی پر براہ راست لائسنس بند کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>بامبے ہائی کورٹ</p></div>
i

ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن (ایم سی اے) کے اندر چلنے والے کھانے پینے کے مراکز کے فوڈ لائسنس مہاراشٹر ایف ڈی اے (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) نے معطل کر دیے تھے۔ ایم سی اے نے اس کارروائی کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت نے دوبارہ جانچ کا حکم دیا، نئی جانچ میں تقریباً 98 فیصد قواعد پر عمل پایا گیا۔ اس کے بعد عدالت نے ایف ڈی اے کو پرانے معطلی کے احکامات فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مچھر مارنے کے لیے تلوار مت چلاؤ۔‘‘ عدالت کا واضح طور پر کہنا تھا کہ قواعد پر عمل کرانا ضروری ہے، لیکن کارروائی متوازن ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایف ڈی اے نے ایم سی اے کے احاطے میں چلنے والے کھانے پینے کے مراکز کی جانچ کی تھی۔ اس کے بعد 21 اگست کو ان کے فوڈ لائسنس معطل کر دیے گئے تھے۔ ایم سی اے نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ 25 اگست کو عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ان مراکز کی دوبارہ جانچ کرانے کا حکم دیا۔ ایف ڈی اے نے 29 اگست کو نئی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جس میں تقریباً 98 فیصد تک قواعد پر عمل پایا گیا۔


نئی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عدالت نے 21 اگست کو جاری کیے گئے معطلی کے احکامات واپس لینے کو کہا۔ عدالت نے مانا کہ جب دوبارہ جانچ میں بڑے پیمانے پر قواعد پر عمل پایا گیا ہے تو لائسنس معطل رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سماعت کے دوران بنچ نے ایف ڈی اے کے افسران سے یہ بھی پوچھا کہ انہوں نے عدالت کی ہدایت پر ٹھیک طرح سے عمل کیوں نہیں کیا۔ عدالت نے کارروائی کو جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کھانے کی صفائی اور حفاظت کے قواعد پر سختی ضروری ہے لیکن ہر معاملے میں کارروائی اس کی سنگینی کے لحاظ سے ہونی چاہیے۔ اسی بات کو سمجھاتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’مچھر مارنے کے لیے تلوار مت چلاؤ۔‘‘ یعنی کسی معمولی کمی کے جواب میں ضرورت سے بہت بڑی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ اس دوران عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا افسران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ بنچ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو فیصلہ لیتے وقت پورے معاملے کو سمجھنا چاہیے۔

عدالت نے متعلقہ افسر کے کام کرنے کے طریقے پر بھی سخت موقف اختیار کیا۔ بنچ کا کہنا تھا کہ افسر نے بغیر سوچے سمجھے اور قواعد و قوانین جانے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نہ ہماری ہدایات سمجھتے ہیں اور نہ قانون۔ اپنے قواعد تک نہیں پڑھتے اور براہ راست کارروائی کر دیتے ہیں۔‘‘ عدالت کے مطابق اس کی ہدایات سیدھی اور آسان زبان میں لکھی جاتی ہیں تاکہ انہیں سمجھنے میں کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔


سماعت کے آخر میں عدالت نے ایف ڈی اے کے سامنے ایک تجویز رکھی۔ بڑے ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کے مراکز کے لیے الگ ویب پیج بنائے جا سکتے ہیں۔ ان ویب پیج پر صارفین صفائی، کھانے کے معیار اور ذائقے کے بارے میں اپنی رائے دے سکیں۔ اس سے لوگوں کو بھی اپنی بات رکھنے کا موقع ملے گا اور کاروباری افراد کو خامیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’’غذائی تحفظ کے قواعد نافذ کرنا ضروری ہے، مگر کارروائی کا مقصد بہتری ہونا چاہیے۔ ہر کمی پر براہ راست لائسنس بند کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔