ڈالر بمقابلہ روپیہ: ’وہ سال دوسرا تھا، یہ سال دوسرا ہے‘، کانگریس نے نرملا سیتارمن کے 2 متضاد بیانات رکھے سامنے

کانگریس رکن پارلیمنٹ شیام کمار دولت بروے نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ایوان میں پوچھا تھا کہ کیا روپے کے گرنے سے ملک کی معیشت کو نقصان ہوا ہے؟ مجھے اس کا جواب نہیں ملا ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

ڈالر کے مقابلہ روپے کی قدر لگاترا گھٹتی جا رہی ہے۔ 30 مارچ کو روپے کی قدر گھٹ کر 95 کے پار پہنچ گئی، حالانکہ بعد میں کچھ بہتری دیکھنے کو ملی۔ اس معاملہ میں کانگریس لگاتار مودی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس پی ایم مودی کے ذریعہ 2014 میں دیے گئے اُس بیان کو کئی بار سامنے رکھ چکی ہے، جس میں پیسے کی قدر گھٹنے کو حکومت کی خراب کارکردگی سے جوڑا تھا۔ اب کانگریس نے روپے کی قدر گھٹنے سے متعلق مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ایک پرانے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے، اور ساتھ میں 30 مارچ کو لوک سبھا میں دیے گئے بیان کو بھی پیش کیا ہے۔ دونوں بیانات میں تضاد دکھائی دے رہا ہے۔ یعنی کانگریس نے نرملا سیتارمن کو آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے۔

کانگریس نے 2 ویڈیوز کا جو مجموعہ ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے، اس میں پہلی ویڈیو 2013 کی ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ’’روپے کا گرنا انتہائی تشویش کی بات ہے۔ ایک ڈالر کے مقابلے یہ 62 کو پار کر چکا ہے، یہ فکر انگیز حالات ہیں۔‘‘ دوسری ویڈیو 30 مارچ 2026 کی ہے، جب وہ روپے کی قدر گرنے پر لوک سبھا میں اپنا تاثر پیش کر رہی تھیں۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہیں ’’ہمارا روپیہ ٹھیک چل رہا ہے۔‘‘ دراصل نرملا سیتارمن نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ ’’دوسری ابھرتی ہوئی معیشت کے مقابلہ میں روپیہ ٹھیک چل رہا ہے، بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔‘‘ کانگریس نے ان دونوں متضاد بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے ویڈیو پر کیپشن لگایا ہے ’وہ سال دوسرا تھا، یہ سال دوسرا ہے‘۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’62 پر تھا تو فکر ہوتی تھی۔ 95 پر ہے تو سب چنگا سی۔‘‘


اس درمیان کانگریس لیڈر شیام کمار دولت بروے نے روپے کی قدر لگاتار گھٹنے پر لوک سبھا میں اپنی تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا روپیہ لگاتار گرتا جا رہا ہے۔ ملک میں خوردنی اشیا کی مہنگائی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں نے ایوان میں پوچھا تھا کہ کیا روپے کے گرنے سے ملک کی معیشت کو نقصان ہوا ہے، مجھے اس کا جواب نہیں ملا ہے۔‘‘ وہ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ ’’روپے کے کمزور ہونے سے ایکسٹرنل ڈیبٹ پر دیے جانے والے سود میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔