ڈی ایم آر سی نے سپریم کورٹ سے معافی مانگی، احتجاج کے دوران میٹرو اسٹیشن بند کرنے پر دیا جواب

10 اکتوبر کو دہلی میں احتجاج کے دوران کچھ میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ڈی ایم آر سی نے سپریم کورٹ میں معافی نامے کے ساتھ جواب داخل کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی میٹرو / آئی اے این ایس</p></div>
i

گزشتہ ہفتہ 10 اکتوبر کو دہلی میں احتجاج کے دوران کچھ میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ڈی ایم آر سی نے سپریم کورٹ میں معافی نامے کے ساتھ جواب داخل کر دیا ہے۔ جوابی حلف نامے میں ڈی ایم آر سی نے کہا کہ اس دن میٹرو پوری طرح بند نہیں کی گئی تھی۔ ڈی ایم آر سی کی چیئرپرسن ڈی تارا نے ڈی ایم آر سی کی طرف سے بلا شرط معافی مانگی ہے۔ حالانکہ ڈی ایم آر سی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کا موقف سنے بغیر ہی حکم جاری کر دیا تھا۔ پھر بھی ڈی ایم آر سی معافی مانگتی ہے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کا بہت احترام کرتی ہے۔

دہلی میٹرو انتظامیہ کے مطابق دہلی میٹرو کے کل 303 اسٹیشنوں میں سے صرف کچھ اسٹیشنوں کے داخل ہونے والے اور باہر نکلنے والے دروازے بند کیے گئے تھے۔ پورے میٹرو نیٹورک پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ ڈی ایم آر سی کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر 2026 کو 271 ٹرینیں چلائی گئیں اور مجموعی طور پر ٹرینوں کے 4157 پھیرے مکمل ہوئے۔ ٹرین خدمات کی تعداد میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی تھی۔ کل 303 میں سے 258 اسٹیشن مسافروں کے لیے کھلے اور فعال تھے۔ پابندی بنیادی طور پر 45 اسٹیشنوں میں داخل ہونے اور باہر نکلنے پر عائد تھی۔


ڈی ایم آر سی کے مطابق 14 اسٹیشنوں، جن میں راجیو چوک، کشمیری گیٹ، سنٹرل سکریٹریٹ، منڈی ہاؤس، حوض خاص اور دیگر اہم اسٹیشنوں پر میٹرو لائن بدلنے کی سہولت جاری تھی۔ ڈی ایم آر سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ 45 اسٹیشنوں پر عائد پابندی 10 اکتوبر 2026 کو رات 10 بجے سے ہٹا دیے گئے۔ اس کے بعد تمام اسٹیشن کو کھول دیا گیا۔ 12 اکتوبر کو 6 اسٹیشنوں پر دوبارہ عارضی پابندیاں عائد کی گئیں۔ 10 اکتوبر 2026 کو تقریباً 32 لاکھ مسافروں نے میٹرو سے سفر کی۔ عام طور پر مہینے کے دوسرے ہفتہ کے روز تقریباً 58 لاکھ مسافر سفر کرتے ہیں۔ ڈی ایم آر سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث مسافروں کی تعداد میں کمی آئی اور عام لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔