جنتر منتر مظاہرہ: میٹرو اسٹیشن بند کرنا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی، توہین عدالت کی عرضی دائر

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود دہلی میں حکام نے منمانی کرتے ہوئے میٹرو اسٹیشن بند رکھے اور بلاوجہ ٹرین خدمات منسوخ کیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i

دہلی میں جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرہ سے قبل سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ حکام نے عدالت کے 9 اکتوبر کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں آج میٹرو اسٹیشن بند رکھے گئے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ خدمات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کل حکم دیا تھا کہ 10 اکتوبر کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے ٹرانسپورٹ خدمات پر مکمل پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔

یہ عرضی وکیل شیلندر منی ترپاٹھی نے دائر کی ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے جولائی میں جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی تھی۔ اس نئی عرضی میں مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن (آئی اے ایس) ، دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار(آئی پی ایس) اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کی چیئرپرسن ڈی۔ تھارا (آئی اے ایس) پر عدالت کی ہدایات کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔


عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود دہلی میں حکام نے منمانی کرتے ہوئے میٹرو اسٹیشن بند رکھے اور بلاوجہ ٹرین خدمات منسوخ کیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں سے قومی راجدھانی میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عرضی گزار نے کہا کہ عدالت کے سخت احکامات اور معزز چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے دی گئی یقین دہانی کے باوجود، توہین عدالت کے مرتکب افراد نے جان بوجھ کر ٹرانزٹ کوریڈور پر تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند رکھیں۔ بلاوجہ ٹرینیں منسوخ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ قصداً کی گئی اس منمانی سے قومی راجدھانی خطے میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہوگئی ہے۔ ضروری کاموں کے لیے سفر کرنے والے لوگ پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ اس معزز عدالت کے اختیار اور وقار کو نظرانداز کرنے اور کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔