ڈی کے شیوکمار کی بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری آج، 12-10 اراکین اسمبلی بھی وزارتی عہدہ کا لیں گے حلف

جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق جی پرمیشور، پریانک کھڑگے، رامالنگا ریڈی، ایم بی پاٹل اور یتیندر سدارمیا وزارتی عہدہ کا حلف لے سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ڈی کے شیوکمار / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ڈی کے شیوکمار آج کرناٹک کے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے والے ہیں۔ اس کے لیے سبھی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ آج شام 4 بجے لوک بھون میں گورنر تھاور چند گہلوت انہیں وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف دلائیں گے۔ کانگریس اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر سدارمیا کے استعفیٰ دینے کے بعد وہ وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں۔ شیوکمار کو ہفتہ کے روز باضابطہ طور پر کانگریس قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار ہوا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ڈی کے شیوکمار کے ساتھ 10 سے 12 اراکین اسمبلی وزارتی عہدہ کا حلف لے سکتے ہیں۔ امکان ہے کہ کابینہ میں توسیع اس ماہ ہونے والے راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل کے انتخابات کے بعد کی جائے گی۔ اس سے قبل 2 جون کو انہوں نے دہلی میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ کابینہ کی تشکیل پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ سدارمیا بھی اس میٹنگ میں شریک ہوئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سدارمیا اور ڈی کے شیوکمار نے دہلی میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے بعد دونوں نے کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور کرناٹک کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا سے بھی ملاقات کی۔


بہرحال، شیوکمار اور سدارمیا 2 جون کی شب دہلی سے بنگلورو روانہ ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز جی پرمیشور، پریانک کھڑگے، رامالنگا ریڈی، ایم بی پاٹل اور یتیندر سدارمیا وزارتی عہدہ کا حلف لے سکتے ہیں۔ کرناٹک میں وزیر اعلیٰ سمیت وزارتی کی کونسل میں زیادہ سے زیادہ 34 وزرا شامل کیے جا سکتے ہیں۔ میڈیا میں آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ نئی کابینہ میں پرانے اور نئے چہروں کا امتزاج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ذاتی مساوات، علاقائی نمائندگی اور سدارمیا کے حامی لیڈران کو مدنظر رکھتے ہوئے توازن قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ بھی زیر غور ہے کہ کئی نائب وزرائے اعلیٰ مقرر کیے جائیں اور سدارمیا کابینہ کے بعض اراکین کو نئی کابینہ میں شامل نہ کیا جائے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق وزارت کے خواہش مند لیڈران کی طویل فہرست اور دستیاب عہدوں کی محدود تعداد کے باعث شیوکمار کے سامنے توازن برقرار رکھنے کا بڑا چیلنج ہے۔ انہیں ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھانا ہوگا، کیونکہ کابینہ میں جگہ نہ ملنے والے لیڈران کی ناراضگی بڑے پیمانے پر عدم اطمینان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔