جموں و کشمیر: کیا ڈونالڈ ٹرمپ کو اعتماد میں لے کر یہ فیصلہ کیا گیا؟

حکومت نے اس فیصلہ سے پہلے جو ملک میں ماحول پیدا کیا، اس نے حکومت کے ہی کئی فیصلوں پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آواز تجزیہ

پارلیمنٹ کی کارروائی ختم ہونے سے دو دن پہلے بی جے پی نے جموں و کشمیر پر اعلان کر کے ایک بڑا دھماکہ کر دیا ہے۔ بی جے پی کے اس دھماکہ کے بعد قومی سیاست میں طوفان برپا ہو گیا ہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ کیا کوئی بھی فیصلہ لینے کے لئے اس ریاست کے عوام کو خوف زدہ کر نے اور سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کرنے کی ضرورت تھی۔ کیا حکومت اس فیصلہ کے ذریعہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ جو چاہے گی اور جیسے چاہے گی ویسے کرے گی اس کو نہ تو آئینی ضابطوں کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی عوام کے جذبات و خیالات سے کوئی غرض۔

اس فیصلہ سے پہلے جو کچھ ہوا ہے اس پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے دورہ پر جاتے ہیں اور ان کی موجودگی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بیان دیتے ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اوساکا میں جی 20 سربراہ اجلاس میں ان سے کشمیر پر ثالثی کی گزارش کی تھی۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ہندوستانی وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں بیان دے کر خارج کر دیا تھا، لیکن وزیر اعظم نے اس تعلق سے آج تک نہ کوئی تردید کی ہے اور نہ کوئی بیان دیا ہے۔

اس کے بعد گزشتہ ہفتہ جیسے ہی جموں و کشمیر میں مزید فوج کی تعیناتی بڑھائی گئی اور امرناتھ یاترا کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا، ویسے ہی ٹرمپ کا پھر بیان آیا کہ اگر ہندوستان چاہے تو وہ جموں و کشمیر پر ثالثی کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کے دوران ہندوستان کا پائلٹ ابھینندن پاکستان کی قید میں چلا گیا تھا تو اس کی رہائی کے رسمی اعلان سے پہلے ٹرمپ نے ان کی رہائی کے بارے میں بتا دیا تھا۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ کشمیر کے تعلق سے ان کو اعتماد میں رکھا گیا ہے، چونکہ یہ فیصلہ ایسا ہے جس میں دوست عالمی طاقتوں کو اعتماد میں رکھا جاتا ہے۔

اس سارے معاملہ میں تشویش کا پہلو یہ ہے کہ اعلان سے قبل حکومت کی جانب سے جو ماحول پیدا کیا گیا وہ کسی بھی جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ایک فیصلے کے لئے اگر ریاستی رہنماؤں کو نظر بند کرنا پڑے یا عوام کو فوج کی بڑی تعداد سے ڈرانا پڑے تو اس سے جمہوریت کی روح پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا مکمل اکثریت والی حکومت اتنے بڑے فیصلہ سے قبل ملک کی سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتی تھی۔ ایسا فیصلہ کر کے حکومت نے اپنے فیصلہ پر ہی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

Published: 5 Aug 2019, 2:10 PM