ڈی جی جی آئی کا اسٹار ٹیکس کنسلٹنٹ کے ٹھکانوں پر چھاپہ، 593 کروڑ روپئے دھوکہ دہی کا ماسٹر مائنڈ گرفتار
تحقیقات کے مطابق ملزم کئی غیر فعال اور شیل جی ایس ٹی آئی این ایس کو آپریٹ کررہا تھا اور انوائس قیمت کے فیصد کے طور پر کمیشن کے عوض جعلی رسیدیں اورای وے بل جاری کروانے کا کام کررہا تھا۔

سینٹرل بورڈ آف بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز (سی بی آئی سی) کی خفیہ ایجنسی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف گڈز اینڈ سروسز ٹیکس انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 593 کروڑ روپے کے ایک فراڈ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) گروہ کا پردہ فاش کرکے سنسنی خیزمعاملے کے کلیدی ملزم جسے اس بڑی دھوکہ دہی کا ماسٹرمائنڈ بتایا جاتا ہے، کو بنگلورو سے گرفتارکرلیا ہے۔
یہ کارروائی ایک مشتبہ جی ایس ٹی رجسٹریشن کی تحقیقات کے بعد شروع کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران موصولہ اطلاعات کی بنیاد پرڈی جی جی آئی کے بیلگاوی زون یونٹ نے بنگلورو میں ’اسٹار ٹیکس کنسلٹنٹ‘ سے منسلک کئی ٹھکانوں کی تلاشی لی۔ اس چھاپے ماری کے دوران ایک منظم ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا جو حقیقی سامان یا خدمات فراہم کیے بغیرجعلی رسیدیں جاری کررہا تھا۔
تحقیقات میں محمد سیف اللہ ایک رجسٹرڈ جی ایس ٹی پریکٹیشنرکی شناخت اس کارروائی کے ماسٹرمائنڈ کے طورپرہوئی۔ وہ کئی غیر فعال اور شیل جی ایس ٹی آئی این ایس کو آپریٹ کررہا تھا اور انوائس قیمت کے فیصد کے طور پر کمیشن کے عوض جعلی رسیدیں اورای وے بل جاری کروانے کا کام کررہا تھا۔ جب اس کے سامنے پختہ ثبوت پیش کئے گئے تواس نے اس فراڈ اسکیم میں اپنے کردارکا اعتراف کرلیا۔ محمد سیف اللہ کو گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ 2017 کی دفعہ 69 کے تحت بنگلورو میں گرفتار کیا گیا۔ اسے ایک مقامی خصوصی اقتصادی کریمنل کورٹ میں پیش کیا گیا جس نے اسے بیلگاوی منتقل کرنے کے لیے ٹرانزٹ ریمانڈ منظور کردی۔ اس کے بعد ملزم کو بیلگاوی میں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس 4 کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
بعد ازاں ڈی جی جی آئی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق اس گروہ نے تقریباً 235 کروڑ روپے کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کا غلط استعمال کیا۔ یہ گروہ مختلف کمپنیوں کو جعلی رسیدیں جاری کرتا تھا جس کی بنیاد پر وہ غلط طریقے سے آئی ٹی سی کا فائدہ اٹھاتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزم کے ذریعہ چلائے گئے متعدد جی ایس ٹی رجسٹریشن کا واحد مقصد جعلی رسیدیں اور ای وے بل تیار کرنا تھا تاکہ حتمی فائدہ اٹھانے والوں کو دھوکہ دہی سے آئی ٹی سی دعویٰ کرنے میں مدد مل سکے۔ خبروں کے مطابق دھوکہ دہی کرنے والوں نے متعدد شیل کمپنیوں کے ذریعے لین دین کو ریکارڈ اور ٹریک کرنے کے لیے منظم طریقے سے آن لائن اکاؤنٹنگ سافٹ ویئر کا استعمال کیا۔ ان شیل کمپنیوں کی کوئی حقیقی کاروباری سرگرمی نہیں تھی اور انہیں صرف کاغذی کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔