’نوٹ بندی سے معیشت اور ووٹ بندی سے جمہوریت کا خاتمہ کر رہے‘، کھڑگے نے مودی حکومت پر کیا حملہ
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے بزرگوں نے جس مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھی تھی، اسے مودی حکومت نے 12 برسوں میں سازش کے تحت کھوکھلا کر دیا ہے۔‘‘
دہلی میں آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں کانگریس نے حکومت کے سامنے کچھ اہم مطالبات رکھے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی جاری کی ہے، جس میں مرکزی حکومت پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ کھڑگے نے لکھا ہے کہ انگریزوں کے دور حکومت کی طرح ایک بار پھر ہندوستان کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی ذمہ داری کانگریس کے کندھوں پر ہے۔ جس طرح انگریزوں سے لڑ کر ووٹ کا حق حاصل کیا تھا، اسی طرح آج بھی اسی حق کو بچانے کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہمارے بزرگوں نے جس مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھی تھی، اسے مودی حکومت نے 12 برسوں میں سازش کے تحت کھوکھلا کر دیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ سازش کے تحت لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر حکومت کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بابا صاحب نے کہا تھا کہ کسی افسر کی مرضی سے ووٹرز کا نام نہیں کاٹا جائے گا۔ آج افسران بی جے پی اور مودی حکومت کے اشارے پر منمانی سے نام کاٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے حق رائے دہی کو جمہوریت کی سب سے بنیادی چیز قرار دیا تھا، لیکن آج اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ عوام نے جسے ووٹ کا چوکیدار بنایا تھا، وہی ووٹوں کا لٹیرا بن گیا ہے۔‘‘
چیف الیکشن کمشنر کو نشانہ بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ جس چیف الیکشن کمشنر پر ان کے اپنے ساتھی بھروسہ نہیں کر رہے، ان پر ملک کیسے بھروسہ کر سکتا ہے؟ کھڑگے نے الزام لگایا کہ خاموشی سے فارم 6 کے ضابطوں میں تبدیلی کروا دی گئی، جو پوری طرح غیر قانونی ہے۔ ملازمت تو دی نہیں اور اب ووٹ کا حق بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ کانگریس صدر کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ ’’کانگریس نے اس ملک کے ادارے بنائے اور انہیں اختیارات سے لیس کیا، لیکن آج وہی ادارے اقتدار کے آگے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس منصوبہ بند طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں۔‘‘
کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں ووٹ اور ووٹرز کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے ووٹرز کو یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے۔ ہم اس معاملے کو کسی انتخاب میں جیت یا ہار کی لڑائی کے طور پر نہیں دیکھتے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل ہیں۔ یہی ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ ہمیں ہر شہری سے کہنا ہے کہ جمہوریت میں سب سے طاقتور شخص ایک عام ووٹر ہوتا ہے، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا اقتدار میں بیٹھا کوئی لیڈر نہیں۔‘‘
آج ہوئی سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں کانگریس نے مودی حکومت کے سامنے جو اہم مطالبات رکھے ہیں، وہ سبھی ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ:
ووٹر لسٹ میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا مکمل ڈاٹا عوامی کیا جائے۔
جن ووٹرز کے نام ہٹائے گئے ہیں، انہیں پوری اطلاع اور اپیل کا موقع دیا جائے۔
سیاسی پارٹیوں کو ووٹر لسٹ اور اس سے متعلق ضروری ڈاٹا آسان فارمیٹ میں وقت پر فراہم کیا جائے۔
جہاں سنگین بے ضابطگیوں کے ثبوت سامنے آئیں، وہاں آزادانہ اور مقررہ وقت کے اندر جانچ ہو۔
انتخابی عمل سے متعلق اہم ڈاٹا اور فیصلوں میں ایسی شفافیت ہو کہ کسی فریق کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
