مولانا حسیب صدیقی کا انتقال، ’دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ‘

مولانا حسیب صدیقی نے مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ایک ایسا اقتصادی نظام قائم کیا جس کی طرز پر سیکڑوں معاشی ادارے قائم کئے گئے جو کمزور طبقات کی معیشت کو بہتر بنانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

تصویر قومی آواز / عارف عثمانی
تصویر قومی آواز / عارف عثمانی

عارف عثمانی

دیوبند: سرزمین دیوبند کی عظیم اور تاریخ ساز شخصیت و جمعیۃ علما ہند کے قومی خازن مولانا حسیب صدیقی آج دیوبند شہرکی فضا کو مغموم کرکے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ انا للہ و الیہ راجعون۔ وہ تقریباً 83 سال کے تھے اور آج اچانک معمولی علالت کے باعث ان کا انتقال پر ملال ہوا۔

ان کا انتقال یہاں کے علمی، دینی، تعلیمی اورسماجی و سیاسی لوگوں کے لئے نہ صرف گہرے صدمہ کا باعث بنا ہے بلکہ دیوبند سمیت اطراف اور ملی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ بدھ کی صبح تقریباً آٹھ بجے جیسے ہی ان کے انتقال کی خبر عام ہوئی تو یہاں محلہ شاہ بخاری میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ،علما کرام، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت شہر کے ہندو مسلم سرکردہ لوگوں کا تعزیت کے لئے تانتا لگ۔ ملک کی نامور ملی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال کو دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ قرا ردیا ہے۔

شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد مولانا حسیب صدیقی سرزمین دیوبند کی ایک عظیم عہد ساز شخصیت تھے، جن کی پوری زندگی لوگوں کی بھلائی اور خیر خواہی میں گزری ہے۔ نرم لہجہ، شگفتہ اور شائستگی، بلند اخلاق، ملنساری، چھوٹوں پر شفقت اور کسی کی تکلیف کو دیکھ کر تڑپ اٹھنا آپ کی زندگی کا خاصہ تھا۔ جنہوں نے سرزمین دیوبند پر خدمت خلق کا عظیم سرچشمہ شروع کیا تھا اور آج دیوبند میں ان کے قائم کردہ ایک درجن ایسے ادارے ہیں جو ان کی اقتصادی، ملی، تعلیمی، سماجی، سیاسی، ادبی اور صحافتی خدمات کی عظیم الشان نظیر بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔

آپ گزشتہ تقریباً ساٹھ سال سے ملک و ملت کی ایسی نمایاں خدمات کررہے تھے جو ناصرف ناقابل فراموش ہے بلکہ دیوبند کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج ہوگا۔ فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ کے ذریعہ 1961 میں قائم کردہ ادارہ کو مرحوم مولانا حسیب صدیقی نے اپنے خون جگر سے اس ادارہ کو مسلم فنڈ دیوبندکی شکل میں ایک تناور شجر بنایا ہے،جس سے آج بلا تفریق مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچ رہاہے۔

مولانا حسیب صدیقی نے مسلم فنڈ دیوبند کی شکل میں ملک و ملت کو ایک ایسا اقتصادی نظام دیا ہے جس سے روشنی پاکر ہندوستان میں متعدد ملی تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں میں اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں اسی طرز کے سیکڑوں معاشی ادارے قائم کرکے کمزور طبقات کی معیشت کو بہتر بنانے کاکام انجام دے رہے ہیں۔

مسلم فنڈ دیوبند کے تحت انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے پبلک گرلز انٹر کالج، تکنیکی تعلیم کے لئے مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیو ٹ اور مسلم فنڈ ناگل سمیت ایک درجن ایسے اداروں کا قیام کیا ہے جو خدمت خلق کے سفرپر رواں دواں ہیں۔

مولانا حسیب صدیقی جمعیۃ علما ہند کے قومی خازن تھے، علاوہ ازیں آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سال 2007 سے سال 2012 تک چیئرمین بھی رہے۔ بیشمار ایسے ادارے اور تنظیمیں ہیں جو آپ کی سرپرستی میں بہترین خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اقتصادی اور تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ملی، سماجی اور سیاسی خدمات کے لئے آپ ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔

مولانا حسیب صدیقی کے بیٹے اور مسلم فنڈ دیوبند کارگزار منیجر سہیل صدیقی نے بتایا کہ ’’آج صبح معمولی علالت کے بعد والد محترم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ یہ سانحہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔‘‘ انہوں نے علما کرام، ائمہ مساجد اور ارباب مدارس و طلبا سے والد مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کی اپیل کی ہے۔ پسماندگان میں تین بیٹوں کے علاوہ بیٹیاں اورپوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بھرا پورا کنبہ ہے۔

مولانا حسیب صدیقی کی نماز جنازہ بعد نماز عصر احاطہ مولسری جمعیۃ علمائ ہند کے قومی صدر مولانا قاری سید عثمان منصورپوری نے ادا کرائی۔ بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر ملک کے سیاسی ،سماجی اور ملی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو عظیم ملی و سماجی خسارہ قرار دیا۔ نماز جنازہ میں شرکت کرنے اور مکان پر پہنچ کر تعزیت کرنے والوں میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی، نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی، جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا قاری عثمان منصور پوری، سماج وادی پارٹی کے اسمبلی رکن سنجے گرگ، مسلم فنڈ دیوبند کے سکریٹری قاضی محمد انوار، رکن شوریٰ مولانا انوارالرحمن ،معرو ف شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی، مولانا اسجد مدنی،ازہد مدنی سابق ممبر اسمبلی معاویہ علی،چیئرمین ضیائ الدین انصاری، مولانا حسن الہاشمی، مولانا ندیم الواجدی،سینئر کانگریس لیڈر عمران مسعود، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، سابق چیئرمین انعام قریشی، ڈاکٹر ڈی کے جین ،سیٹھ کلدیپ کمار، پنڈت ستیندر شرما،ششی با لاپنڈیر ، سلیم قریشی ،نجیب آباد مسلم فنڈ کے جنرل منیجر ذکی احمد،بجنورمسلم فنڈ کے منیجر خلیل احمد ،سید عقیل حسین میاں دیوبندی، بی جے پی لیڈر دیپک راج سنگھل، پریس ایسوسی ایشن کے صدر منوج سنگھل، مولانا فرید مظاہری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ملک و بیرون ملک سے مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر تعزیت کرنے والوں میں ممتاز عالمی عالم دین مفتی تقی عثمانی، جمعیۃ علمائ ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشدمدنی، جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جمال الدین عمری،مولانا امام مہدی سلفی،شری شری روی شنکر،آل انڈی ملی کونسل کے قومی صدر مولانا مولانا عبداللہ مغیثی،سابق ممبر آف پارلیمنٹ قاضی رشید مسعود،بی ایس پی لیڈر حاجی فضل الرحمن،موریشس سے عبیر اخلاص احمد اور انس خلاص اور مدینہ منورہ سے حاجی انس صدیقی اور خورشید انور وغیرہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔