دہلی میں گھنے کہرے اور شدید سردی سے فضائی و ریل نظام متاثر، 280 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار

دہلی میں گھنے کہرے اور شدید سردی کے باعث حدِ بصارت کم ہو گئی، جس سے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر 280 سے زائد پروازیں تاخیر یا منسوخ ہوئیں جبکہ کئی ٹرینیں بھی مقررہ وقت سے تاخیر سے چلیں

<div class="paragraphs"><p>دہلی میں کہرے کا منظر / آئی&nbsp;اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی اور ملک کے مختلف حصوں میں منگل کی صبح گھنے کہرے اور شدید سردی کے باعث فضائی اور ریل آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی۔ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حدِ بصارت کم ہو کر تقریباً 150 میٹر تک آ گئی، جس کے نتیجے میں 280 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ کچھ پروازیں منسوخ بھی کر دی گئیں۔

ہوائی اڈے پر صبح چار بجے کے بعد کہرے کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد کیٹ-تھری طریقہ کار کے تحت آلات کی مدد سے فلائٹ آپریشن شروع کیا گیا۔ اس طریقہ کار کے لیے نہ صرف رن وے بلکہ طیارے کا بھی خصوصی آلات سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے، جبکہ پائلٹوں کو بھی اس نظام کے تحت لینڈنگ اور ٹیک آف کی باقاعدہ تربیت حاصل ہونی چاہیے۔

دہلی ہوائی اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق آج دہلی سے روانہ ہونے والی کم از کم بیس پروازیں اور دہلی پہنچنے والی کم از کم دو سو ساٹھ پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔ کم بصارت کے باعث امرتسر، بھوپال، چندی گڑھ، گوہاٹی، وارانسی، رانچی، ہنڈن اور دھرم شالہ کے ہوائی اڈوں پر بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہوا۔


دوسری جانب نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی دہلی میں سردی کی شدت برقرار ہے۔ جنوری کے ابتدائی دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اوسطاً 17.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معمول سے کم ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوری کے پہلے پندرہ دن عموماً سب سے زیادہ سرد ہوتے ہیں اور اس دوران کم سے کم درجہ حرارت بھی نچلی سطح پر رہتا ہے۔

سردی اور کہرے کا اثر ریل آمد و رفت پر بھی پڑا۔ دہلی آنے اور جانے والی متعدد میل، ایکسپریس اور سپر فاسٹ ٹرینیں تاخیر سے چلیں، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی، غازی آباد، متھرا، میرٹھ، امبالہ اور پریاگ راج کے روٹس پر ٹرینوں کی تاخیر نمایاں رہی۔

ماہرین کے مطابق آئندہ چند دنوں تک موسم کی صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، تاہم حدِ بصارت میں بہتری آنے کے بعد ہی فضائی اور ریل نظام مکمل طور پر معمول پر آ سکے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔