ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس کا مطالبہ قانوناً غلط: پرسنل لا بورڈ

مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ بورڈ کا موقف ہے کہ بابری مسجد معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس کا مطالبہ قانون کے خلاف ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی 15 دسمبر کو ہوئی ایک ورکشاپ کا منظر
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی 15 دسمبر کو ہوئی ایک ورکشاپ کا منظر
user

قومی آوازبیورو

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کا لکھنؤ میں اتوار یعنی کہ آج ایک اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران متعدد ملی مسائل پر غور خوض ہوگا۔ اجلاس کے دوران ایودھیا کے بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کو لے کر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے اطلاع دی کہ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس لکھنؤ میں واقع دار العلوم ندوۃ العلما میں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران بابری مسجد سمیت متعدد مسائل پر تفصیلی غور خوض کیا جائے گا۔

مولانا ولی رحمانی نے بتایا کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین پر رام مندر تعمیر کے لئے وی ایچ پی اور کچھ دیگر ہندو تنظیموں کی طرف سے قانون سازی کے لئے حکومت پر ڈالے جا رہے دباؤ کا معاملہ بورڈ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر لازمی طور پر اس معاملہ پر بھی بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس لاکر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے اٹھ رہی مانگ کو لے کر بورڈ کافی سنجیدہ ہے۔ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی طرف آرڈیننس لائے جانے پر بورڈ کی کیا حکمت عملی ہوگی اس حوالہ سے تبادلہ خیال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کا موقف ہے کہ بابری مسجد معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس کا مطالبہ قانون کے خلاف ہے۔

پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ بورڈ کی ورکنگ کمیٹی میں سپریم کورٹ میں بابری مسجد پر چل رہی سماعت کا جائزہ لینے کے ساتھ آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ساتھ ہی مسلم خواتین کی سماجی و اقتصادی حفاظت، مہنگی شادیاں اور بیٹیوں کی جہیز کے بجائے جائداد میں حصہ داری کو عمل میں لانے پر بھی بورڈ میں غور و خوض کیا جائے گا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی کے علاوہ نائب صدر مولانا کلب صادق، مولانا فخر الدین اشر کچھوچھوی، سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ، ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور اسد الدین اویسی سمیت ورکنگ کمیٹی کے تمام 51 ارکان کے شامل ہونے کی امید ہے۔