دہلی کی سانسوں میں آلودگی کا 87واں دن، آنند وہار کا اے کیو آئی 296: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی 87 دن سے گزشتہ سال کے مقابلے میں بدتر ہے۔ آنند وہار میں اے کیو آئی 296 رہا، جبکہ 236 دنوں میں 163 دن آلودگی زیادہ تھی

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے&nbsp;سینئر لیڈر اجے&nbsp; ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 87 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک ایک دن کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔

اجے ماکن نے اپنی ’سانس، ایس اے اے این ایس‘ سیریز کے تحت جاری تازہ پوسٹ میں کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے مسلسل 87 دن بدتر رہی ہے۔

ماکن کے مطابق رواں سال اب تک 236 دنوں کے اعداد و شمار کی پیمائش کی گئی، جن میں 163 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ریکارڈ ہونے والے یہ اعداد و شمار دہلی میں فضائی آلودگی کے مستقل رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ماکن کا بنیادی دعویٰ ہے کہ موسمی اثرات نکالنے کے بعد بھی پی ایم 10 کی سطح مسلسل گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے، اس لیے اس رجحان کو صرف موسمی تبدیلی سے نہیں سمجھایا جا سکتا۔


تازہ رپورٹ میں آنند وہار کی صورت حال کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ ماکن کے مطابق آنند وہار میں آج صبح اے کیو آئی 296 ریکارڈ کیا گیا، جو ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے اپنے معیار کے تحت اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ماکن کے مطابق آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13 لاکھ 63 ہزار 291 افراد رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔

تازہ پوسٹ میں پوری دہلی کے لیے ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والی آبادی، جہاں اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر درج کیا گیا ہو، کتنی زیادہ ہے اس کا اندازہ لگانا مشکلل نہیں ہے۔ اجے ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ ریکارڈ ہونے والے اعداد و شمار کو عوامی سطح پر مسلسل دستیاب رکھنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ماکن کے مطابق 30 مئی سے جاری 87 دن کا سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہر کی فضائی آلودگی میں بگاڑ محض کسی ایک دن یا مختصر مدت تک محدود نہیں ہے۔

رپورٹ میں موازنے اور طریقۂ کار کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ماکن کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں سی پی سی بی کے فضائی معیار کے ڈیٹا اور موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے طریقے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ سامنے آنے والے اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی اور عوامی سطح پر جواب دہی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔