چمکی بخار: مرکزی وزیر صحت کی رہائش پر یوتھ کانگریس کا مظاہرہ

بہار کے مظفر پور میں بچوں کی موت کو لے کر یوتھ کانگریس کے اراکین نے مظاہرہ کیا اور کہا کہ ایسے مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھانا مرکز اور حکومت بہار کے لیے باعث شرم ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار میں ’چمکی بخار‘ کا قہر جاری ہے۔ مظفر پور میں چمکی بخاری سے اب تک 132 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ بچوں کی موت اور بی جے پی پر بے حسی کا الزام عائد کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کارکنان نے دہلی میں مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن کی رہائش کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ہاتھوں میں حکومت کے خلاف بینر و پوسٹر لیے پہنچے کانگریس کارکنان نے جم کر نعرے بازی بھی کی۔ اس احتجاجی مظاہرہ کے دوران بڑی تعداد میں پولس فورس موجود تھی جس نے بعد میں احتجاج ظاہر کر رہے کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

یوتھ کانگریس اراکین نے ہرش وردھن کی رہائش کا گھیراؤ کیا اور استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزارت صحت بیمارو ہو گیا ہے۔ مظفر پور میں چمکی بخار سے ہو رہی اموات پر حکومت کا رویہ مایوس کن ہے اور اسپتالوں میں سہولت کی کمی ہے۔ ایسے مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھانا مرکز اور حکومت بہار کے لیے شرم کی بات ہے۔‘‘

غور طلب ہے کہ گزشتہ دنوں مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کے ذریعہ مظفر پور دورہ کے دوران پریس کانفرنس کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں بہار کے وزیر صحت نے کرکٹ میچ کا اسکور پوچھنے میں دلچسپی دکھائی اور اس پر ہرش وردھن بات چیت کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔ اس تعلق سے اپوزیشن پارٹیوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

دوسری طرف چمکی بخار کے قہر پر پی ایم مودی کی بھی خاموشی 17 دن بعد ٹوٹی۔ بدھ کے روز راجیہ سبھا میں پی ایم مودی نے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ چمکی بخار یا ایکیوٹ انسفلائٹس سنڈروم کے سبب ہوئی اموات افسوسناک ہیں اور ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔

بچوں کی موت پر نتیش کمار اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ ناراض لوگوں کے بھی نشانے پر ہیں۔ بچوں کی موت کے بعد اسپتال کے دورہ کے وقت انھیں عوام کی ناراضگی بھی برداشت کرنی پڑی تھی۔ ناراض لوگوں نے انھیں کالے جھنڈے دکھائے تھے اور ’نتیش گو بیک‘ کے نعرے بھی لگائے گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے بھی بہار میں ہو رہی بچوں کی موت پر سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ چمکی بخار سے ہو رہی اموات کے درمیان عدالت نے حکومت بہار سے سات دنوں میں جواب طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ بہار میں چمکی بخار سے 170 سے زائد بچوں کی موت ہو چکی ہے اور تنہا مظفر پور میں ہی بچوں کی موت کی تعداد 132 پار کر گئی ہے۔