دہلی تشدد: متاثرین کو پناہ دینے پر طلبا یونین کو یونیورسٹی انتظامیہ کا انتباہ

یونیورسٹی کے رجسٹرار پرمود کمار نے کہا کہ جے این یو کیمپس کو پناہ گاہ بنانے کا آپ کو کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کو ایسا کرنے پر تادیبی انتباہ بھی جاری کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین (جے این یو ایس یو) کے ذریعہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر تشدد کے متاثرہ افراد کو پناہ دینے کے اعلان کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے یونین کو ایسے کسی اقدام کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے۔ اس اقدام سے طلبا یونین اور انتظامیہ کے مابین جاری تنازعات میں اور اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار پرمود کمار نے جاری کردہ ایک نوٹس میں کہا، ’’آپ کو جے این یو کیمپس کو پناہ گاہ بنانے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔‘‘ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کو ایسا کرتے ہوئے پائے جانے پر تادیبی انتباہ بھی جاری کیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے، ’’آپ کو ایسی کسی بھی سرگرمی کے خلاف سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے، جس میں ناکامی کی صورت میں آپ کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ آپ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ جے این یو جیسے تعلیمی ادارے کو مطالعے اور تحقیق کے لئے سازگار مقام کے طور پر برقرار رکھیں۔‘‘

واضح رہے کہ بدھ کے روز طلبا یونین نے سوشل میڈیا پر پوسٹر شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’جے این یو پناہ لینے کے لئے کھلا ہے‘ انہوں نے ایسا کہتے ہوئے تشدد متاثرین کو کیمپس کے اندر پناہ لینے کے لئے بلایا۔ تاہم، انتظامیہ کے مذکورہ نوٹس سے طلبا یونین ناراض ہوگئی ہے اور انہوں نے دعوی کیا ہے کہ جے این یو کیمپس تشدد کے متاثرین کے لئے کھلا رہے گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next