دہلی فسادات: ’طاہر حسین کو مسلم ہونے کی سزا ملی‘

عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے شمال مشرقی دہلی فسادات کے ایک ملزم طاہر حسین کے سلسلے میں کہا کہ وہ (طاہر) مسلم ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے ممبر اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے شمال مشرقی دہلی فسادات کے ایک ملزم طاہر حسین کے سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ (طاہر) مسلم ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

امانت اللہ خان نے ہفتہ کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا، ’’آج طاہر حسین صرف اس بات کی سزا کاٹ رہے ہیں کہ وہ ایک مسلمان ہے۔ شاید آج ہندوستان میں سب سے بڑا گناہ مسلم ہونا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ ثابت کر دیا جائے کہ دہلی میں تشدد طاہر حسین نے کرائے ہیں۔‘‘


شہریت (ترمیمی) قانون (سی اے اے) کے مسئلے پر گزشتہ ہفتے شمال مشرقی دہلی کے کئی علاقوں میں فسادات ہوئے تھے جس میں 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ عآپ کے نہرو وہار وارڈ سے معطل کونسلر طاہر حسین کو ان فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جمعرات کو گرفتار کیا تھا اور وہ اس وقت سات دن کی پولیس حراست میں ہیں۔

طاہر حسین کی لائسنسی پستول ضبط

دریں اثنا، دہلی پولیس نے طاہر حسین کے لائسنسی پستول اور 24 کارتوس ضبط کر لئے۔ دہلی پولیس کے ذرائع نے سنیچر کو اس کی اطلاع دی۔ ذرائع نے بتایا کہ پستول کو فارنسک جانچ کے لئے بھیجا گیا ہے۔ یہ جانچ اس لئے کرائی جارہی ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ پستول کا استعمال حالیہ فسادات میں کیا گیا ہے یا نہیں۔ ضبط گولیوں کو فارنسک جانچ کے لئے بھیجا گیا ہے۔


شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ، جعفر آباد، موجپور اور کھجوری سمیت مختلف حصوں میں فسادات میں 53 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں دہلی پولیس کے ہیڈکانسٹبل رتن لال اور خفیہ محکمہ کے جوان انکت شرما بھی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔