دہلی تشدد: نفرت کے سوداگروں نے کاروبار تباہ کر دیا، چھوٹے موٹے دھندے بھی ختم!

دہلی تشدد سے بری طرح متاثر کاروباری کہتے ہیں کہ فساد کرانا لیڈروں کا کاروبار ہے، لیکن ان کے کاروبار نے شمال مشرقی دہلی کی تمام صنعتوں کو ٹھپ کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

افروز عالم ساحل

55 سال کے عبدالجبار مصطفیٰ آباد کے عیدگاہ میں بنے راحت کیمپ کے ایک کونے میں خاموش کھڑے ہیں۔ ان کی نظریں کسی اپنے کو تلاش کر رہی ہے۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے علاقے کے کئی لوگ اسی کیمپ میں ہیں۔ عبدالجبار کا گھر شیو وِہار میں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہاں تمام پڑوسیوں سے میرے تعلقات کافی اچھے تھے۔ ہم ہر تہوار اور شادی-بیاہ میں ایک دوسرے کے گھر جاتے تھے۔ لیکن پتہ نہیں ایسا اچانک کیا ہو گیا کہ سب ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو گئے۔ ہم کسی طرح سے اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلے۔

عبدالجبار تشدد کے 12 دنوں بعد بھی واپس جانے کی ہمت نہیں جٹا پائے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا بیلٹ بنانے کا کام تھا۔ ان کے ساتھ تین خاندان اسی کام میں لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 5 ملازم تھے۔ زیادہ تر کام ٹھیکے پر کرواتے تھے۔ لیکن اب آگے اس کام کا کیا ہوگا، انھیں کچھ پتہ نہیں۔ پھر وہ کچھ سوچ کر بولتے ہیں ’’فساد کرانا اب لیڈروں کا کاروبار ہے۔ لیکن ان کے اس کاروبار نے شمال مشرقی دہلی کی تمام صنعتوں کو ٹھپ کر دیا۔‘‘ شیو وِہار میں مسجد کے پاس بیلٹ، پرس اور الگ الگ گاڑیوں کے سیٹ کور بنانے کے کئی کارخانے تھے۔ عبدالجبار کے مطابق زیادہ تر کارخانے شرپسندوں نے آگ کے حوالے کر دیئے۔

شمال مشرقی دہلی کے الگ الگ علاقوں میں کئی طرح کے پروڈکشن ہوتے ہیں۔ ان کاموں کا سیزن بھی طے ہوتا ہے۔ جعفر آباد میں سردی کے دنوں میں جیکٹ بنتے ہیں، وہیں گرمی میں پوری دہلی کے علاقوں میں زیادہ تر کولر یہیں سے تیار ہو کر جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ریڈیمیڈ کپڑے بھی خوب تیار کیے جاتے رہے ہیں۔ خاص طور پر سستے جینس اور اسکول ڈریس یہیں تیار ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں الگ الگ چیزوں کے لیے میٹل سیٹ، کھلونے، ٹیڈی بیئر، ہولی کے لیے پچکاری وغیرہ بھی یہاں بنتی رہی ہیں۔ کولر کی گھاس کی بھی یہاں فیکٹریاں رہی ہیں۔ کباڑ اور بیکری کا کام بھی خوب ہوتا رہا ہے۔

دہلی تشدد نے مذکورہ صنعتوں کو پوری طرح سے تباہ کر دیا ہے۔ زیادہ تر کارخانے تشدد کی آگ میں جھلس چکے ہیں۔ دہلی چیمبر آف کامرس کی مانیں تو شمال مشرقی دہلی کے اس علاقے میں اس تشدد کی وجہ سے 25 ہزار کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق یہ نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اور سب سے زیادہ نقصان آپسی بھروسے کا ہوا ہے جو کسی بھی صنعت کے لیے سب سے ضروری ہوتا ہے۔ پتہ نہیں، اس بھروسے کو دوبارہ قائم کرنے میں کتنے سال لگیں گے۔

شیو وِہار کے عبدالواحد بیکری دکانوں کے سپلایر ہیں۔ لیکن ان کا یہ کام تشدد شروع ہونے کے بعد سے ہی پوری طرح بند ہے۔ آگے یہ کب تک بند رہے گا، اس کا بھی پتہ نہیں۔ عبدالواحد کے مطابق شیو وِہار نے بیکری انڈسٹری میں اپنی جڑیں کافی مضبوط کر لی تھی۔ دہلی کے کئی علاقوں میں یہاں سے بیکری آئٹم سپلائی ہونے لگے تھے، لیکن اب شاید پھر سے پرانی شناخت بنانے میں کئی سال لگ جائیں گے، کیونکہ زیادہ تر بیکری کارخانوں کو پوری طرح سے تہس نہس کر دیا گیا ہے۔ کئی لوگ کروڑوں کے نقصان میں ہیں۔ پتہ نہیں اس کی بھرپائی کون کرے گا۔

مصطفیٰ آباد کے بابو نگر میں رہنے والے محمد علیم الدین اپنے کارخانوں کی سلائی مشینوں کو لے کر گھر کی طرف جاتے نظر آئے ۔ ان کا کارخانہ نزدیک کے ہی چمن پارک کے پاس تھا اور اس کارخانے میں وہ بچوں کے اسکول ڈریس بناتے تھے۔ لیکن فی الحال اپنا کارخانہ خالی کر کے اپنا سامان اپنے گھر میں رکھ رہے ہیں۔ وجہ پوچھنے پر کہتے ہیں ’’اب بچا ہی کیا ہے؟ ویسے بھی معاشی بحران کی وجہ سے مارکیٹ خراب ہی چل رہی تھی۔ اور اب، یہ سب کچھ۔ ویسے بھی، غلط کرنے والوں کو اس سے کیا مطلب کہ ملک میں معاشی بحران ہے۔‘‘

اپنی ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ محمد علیم الدین مزید کہتے ہیں کہ ’’اب کون لیبر یہاں رہنا چاہے گا؟ سارے لیبر اور کاریگر واپس جا رہے ہیں۔‘‘ علیم الدین کے مطابق یہاں کام کے لیے سب ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ ریڈیمیڈ کا خام میل نہرو وِہار اور گاندھی نگر سے آتا رہا ہے اور یہاں کے الگ الگ گھروں میں کپڑے تیار کیے جاتے رہے ہیں۔ مصطفیٰ آباد اور اس کے آس پاس کے کم از کم 500 گھروں میں ہی ریڈیمیڈ کپڑوں کی سلائی کا کام ہوتا ہے۔

جعفر آباد میں رہنے والے چاند اس علاقہ میں کئی طرح کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سیزن کے حساب سے یہ طے کرتے ہیں کہ انھیں کون سا کام کرنا ہے۔ سردیوں میں لڑکیوں کے لیے جیکٹ بناتے ہیں تو گرمیوں میں کولر کا کام کرتے ہیں۔ لیکن اس تشدد نے جعفر آباد کی سبھی صنعتوں کو چوپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ دہلی سے باہر کے لوگ یہی جانتے ہیں کہ یہیں سے تشدد کی شروعات ہوئی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جعفر آباد میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہاں تشدد کی آگ ہم نے نہیں بھڑکنے دی بلکہ ہمارے علاقے میں ہمارے سارے ہندو کاریگر پوری طرح سے محفوظ رہے۔

مصطفیٰ آباد میں رہنے والے آس محمد بتاتے ہیں کہ میرے سارے جاننے والے لوگ اسکریپ یعنی کباڑ کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں سے زیادہ تر کباڑ ہریانہ کے بہادر گڑھ کی طرف جاتا تھا۔ لیکن گزشتہ دس دنوں سے کام پوری طرح سے ٹھپ ہے۔ آگے ہمارے کام کا کیا حشر ہوگا، ہمیں خود پتہ نہیں۔ ہمارے زیادہ تر مزدور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ زیادہ تر آٹو اور پِک اَپ وین جلا دی گئی ہیں۔

کراول نگر میں رہنے والے اشوک شرما کا پینٹ، گھر میں استعمال کیے جانے والے الیکٹرک سامان، سینیٹری ہارڈ ویئر وغیرہ کا بزنس تھا۔ ان کی دکان اور گودام اس تشدد کی نذر ہو گئے۔ انھوں نے 20 سال پہلے یہ بزنس شروع کیاتھا اور اس دوران ان کا کاروبار بڑھتا گیا۔ ویسے اس علاقے میں اس طرح کی کئی دکانیں ہیں اور ان میں کوئی ہندو کی ہے تو کوئی مسلم کی۔ 1984 اور 93-1992 کے دوران بھی اس علاقے میں کچھ نہیں ہوا، لیکن اس بار شرپسندوں نے اس علاقے کو بھی نہیں بخشا۔ ویسے، شرما نے اپنی دکان اور سامان کا انشورنس کرا رکھا تھا اس لیے انھیں نقصان ہوا تو ہے، لیکن وہ اس کی بھرپائی بھی کر لیں گے۔

مصطفی آباد کے زبیر احمد کا کارخانہ سیلم پور میں ہے۔ ان کے کارخانے میں میٹل شیٹ تیار کیا جاتا رہا ہے۔ ان میٹل شیٹوں کا استعمال انویٹر، اسٹیبلائزر اور کولر میں ہوتا ہے۔ سیلم پور علاقے میں اس کا بڑا کام ہے۔ زبیر کہتے ہیں ’’کوئی بھی بزنس ایک دوسرے کے بھروسے اور یقین پر چلتا ہے، لیکن اس تشدد نے ہمارے تمام یقینوں کو ختم کر دیا۔ مارکیٹ میں ہمارے 7-6 لاکھ روپے پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن اس ماحول میں پیسے کون دے گا اور کس منھ سے مانگا جائے گا؟ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے، لیکن پھر بھی اس وقت ہم فقیر ہیں۔

زبیر احمد بتاتے ہیں کہ تشدد شروع ہونے کے 9 دنوں بعد انھوں نے اپنی دکان کھولی لیکن ایک بھی کام نہیں ہوا۔ کراول نگر کا ایک آٹو والا پہلے کے آرڈر کا سامان لے کر گیا، لیکن اس نے ٹوپی لگا رکھی تھی تو ایک عورت نے ہی اسے پیٹ دیا۔ وہ آگے جانے بجائے لوٹ آیا۔ وہیں ایک دوست کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ اِدھر مت آنا کیونکہ یہاں سارے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ مسلمانوں سے سامان مت خریدو۔ اب آگے آپ خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ جب مزدور یا کاریگر چلے جائیں اور گاہک یہاں سے خریدنا بند کر دیں تو ہمارے کاروبار کا مستقبل کیا ہوگا۔

next