’آؤ پاکستانی، یہ لو شہریت‘ فسادیوں نے بی ایس ایف جوان کا گھر بھی نہیں بخشا!

اہل خانہ کو امید تھی کہ ’محمد انیس، بی ایس ایف‘ کی نیم پلیٹ کے سبب ان کے گھر پر حملہ نہیں ہوگا لیکن فسادیوں نے گھر کو نذر آتش کر دیا اور وہ نیم پلیٹ بھی جلا دی گئی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

راجدھانی دہلی کے شمال مشرقی علاقہ کی متعدد گلیوں اور سڑکوں پر تشدد کا جو ننگا ناچ تقریباً چار دن تک جاری رہا تھا بالآخر اختتام کو پہنچ گیا لیکن فسادیوں کی جلائی آگ کی وجہ سے بستیاں ابھی تک برباد نظر آ رہی ہیں اور ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔ اب تشدد کا سلسلہ تھمنے کے بعد حملہ آوروں کے ظل کا شکار ہونے والے لوگوں کی دل دہلانے والی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں، جو ملک کے آئین پر اعتماد کرنے والوں کو شرمندہ کر رہی ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ کھجوری خاص علاقہ میں رونما ہوا، جہاں 25 فروری کو فسادیوں نے ایک محلہ میں رہنے والے تمام مسلمانوں کے مکانات نذر آتش کر دئے۔ ان مکانات میں بی ایس ایف کے جوان محمد انیس کا مکان بھی شامل تھا، فسادیوں نے اسے بھی خاکستر کر دیا۔ سال 2013 میں بی ایس ایف میں بھرتی ہونے والے محمد انیس تین سال تک جموں و کشمیر میں تعینات رہ چکے ہیں لیکن حملہ آوروں کو اتنے پر بھی انیس کی حب الوطنی پر یقین نہیں آیا۔

نیوز 18 کی ایک رپورٹ کے مطابق جب 25 فروری کی رات مشتعل حملہ آور کھجوری خاص میں واقع ایک گلی میں داخل ہوئے، اسی گلی میں بی ایس ایف کے جوان محمد انیس کا گھر بھی ہے۔ اس وقت محمد انس خود بھی گھر میں موجود تھے، ان کے علاوہ والد محمد مونس (55)، تایا محمد احمد (59) اور 18 سالہ تایا زاد بہن نیہا پروین بھی موجود تھی۔ محمد انیس نے بتایا کہ جب فسادیوں نے گلی میں تباہی پھیلانا اور قریبی مسلمانوں کے مکانات کو جلانا شروع کیا تو انہوں نے سوچا کہ محمد انیس، بی ایس ایف کی نیم پلیٹ کو دیکھ کر فسادی ان کا گھر بخش دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، حملہ آواروں نے پہلے گھر کے باہر کھڑی کار کو نذر آتش کیا اور پھر گھر پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ دریں اثنا، حملہ آوروں نے گھر کے اندر ایک گیس سلنڈر پھینکا اور چکا کر کہا ’’ادھر آ پاکستانی، تجھے ناگریکتا (شہریت) دیتے ہیں۔‘‘ ایسے حالات میں بچنے کا کوئی امکان نہ دیکھ کر انیس کسی طرح اہل خانہ سمیت چھپ کر گھر سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے۔ اسی دوران انیس کے حالات کی خبر نیم فوجی دستے کو ہوئی، جنہوں نے انیس کو اہل خانہ سمیت محفوظ نکال لیا۔

اس واقعے کے تین دن بعد بھی انیس کے گھر کی جلی ہوئی باقیات وہیں موجود ہیں۔ انیس کے گھر کے قریب کھجوری خاص کی دو گلیوں میں مسلمانوں کے لگ بھگ 35 گھر جلا کر خاکستر کر دئے گئے ہیں۔ گلی میں صرف ایک مسلمان کا مکان بچا ہے۔ تاہم، اس حملہ کا سب سے زیادہ نقصان بی ایس ایف جوان محمد انیس کے اہل خانہ کو ہوا ہے۔ اگلے تین مہینے میں ان کے گھر میں دو شادیاں ہونے والی تھیں اور زیورات سمیت، نقد رقم اور جہیز کا سامان سب کچھ جل گیا۔ انیس کی شادی اگلے ماہ ہونے جا رہی تھی جبکہ نیہا پروین کی شادی اپریل میں ہونا طے تھی۔

اہل خانہ نے کہا کہ اس حملے میں شادی کے لئے بنوائے سونے اور چاندی کے زیورات تباہ ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر مہینے بچت کر کے قسطوں پر سامان خریدتے تھے۔ اس کے علاوہ شادی کے لئے رکھے گئے تین لاکھ روپے بھی جل کر خاک ہو گئے۔

واضح رہے کہ کھجوری خاص ہندو اکثریتی علاقہ ہے لیکن انیس اور اس کے کنبے کے مطابق ان کے گھر پر حملے میں ان کا کوئی پڑوسی ملوث نہیں تھا اور تمام حملہ آور بیرونی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہندو پڑوسی فسادیوں سے لگاتار وہاں سے جانے کے لئے کہہ رہے تھے، بعد میں انہی ہندو پڑوسیوں نے آگ بجھانے میں مدد بھی کی۔