دہلی تشدد: طاہر حسین کو ملی بڑی راحت، کونسلر عہدہ سے ہٹانے کے حکم پر ہائی کورٹ کی روک

شمال مشرقی دہلی میں اس سال فروری میں ہوئے تشدد کے ملزم عآپ کونسلر طاہر حسین کو 26 اگست کو مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن نے عہدہ سے برخاست کر دیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آصف سلیمان

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو مشرقی دہلی میں تشدد کے اہم ملزم طاہر حسین کو نااہل ٹھہرانے کے مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن (ای ڈی ایم سی) کے فیصلے کو روک لگا دی ہے۔ یعنی اب طاہر حسین کی میونسپل کارپوریشن کی رکنیت برقرار رہے گی۔ میونسپل کارپوریشن کے فیصلے کے خلاف داخل عرضی کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے طاہر حسین کو نااہل ٹھہرائے جانے کے فیصلے پر اسٹے دے دیا ہے۔

ای ڈی ایم سی کے فیصلے پر عارضی روک لگاتے ہوئے جسٹس نجمی وزیری کی صدارت والی ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے سوک باڈی کو نوٹس جاری کر اس کا جواب بھی مانگا ہے اور معاملے کو آگے کی سماعت کے لیے 17 مارچ کو فہرست بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں اس سال فروری میں ہوئے تشدد کے ملزم عآپ کونسلر طاہر حسین کو 26 اگست کو مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن نے عہدہ سے برخاست کر دیا تھا۔ کارپوریشن نے ایوان کی لگاتار تین میٹنگوں میں غیر حاضر رہنے پر یہ قدم اٹھایا تھا۔ کارپوریشن کی جانب سے کہا گیا کہ اگر تین لگاتار مہینوں کے دوران ایک کونسلر کارپوریشن کی اجازت کے بغیر سبھی میٹنگوں سے غیر حاضر ہے تو کارپوریشن ان کی سیٹ کو خالی قرار دے سکتا ہے۔

اس کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے سامنے داخل اپنی عرضی میں طاہر حسین نے کہا کہ کارپوریشن کے ذریعہ پاس مذکورہ قرارداد منمانی اور غیر آئینی ہے۔ انھوں نے اس حکم کو فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ طاہر حسین کی عرضی میں کہا گیا کہ "عرضی دہندہ نے ای ڈی ایم سی کی تین لگاتار مہینوں کی میٹنگوں سے خود کو غیر حاضر نہیں کیا ہے، کیونکہ کارپوریشن کی میٹنگیں اگست کے مہینے تک تین مہینے تک کبھی بھی سلسلہ وار طریقے سے نہیں ہوئیں، جب عرضی دہندہ کی سیٹ خالی کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔"

عرضی میں طاہر حسین نے مزید دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میٹنگیں جنوری، فروری کے مہینے میں (سلسلہ وار طریقے سے دو مہینے کے لیے) منعقد کی گئیں، اس کے بعد مارچ، اپریل اور مئی کے مہینے میں میٹنگیں نہیں ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ میٹنگیں جون اور جولائی کے مہینے میں پھر سے منعقد کی گئیں۔ طاہر حسین نے کہا کہ "عرضی دہندہ کو نہ تو وجہ بتاؤ نوٹس دیا گیا اور نہ ہی ان کی سیٹ خالی کرنے کے فیصلے سے پہلے سماعت کا موقع دیا گیا، جو فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next