دہلی: 26 جنوری کو قیدیوں کو دی جائے گی خصوصی معافی، طے شدہ شرائط پر رہائی کا اعلان
یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی حکومت نے اہل قیدیوں کو خصوصی سرکاری معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معافی ان سزا یافتہ قیدیوں پر نافذ ہوگی، جنہیں دہلی کی فوجداری عدالتوں کے ذریعہ سزا سنائی گئی ہے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی حکومت نے اہل قیدیوں کو خصوصی سرکاری معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود نے اس حوالے سے بتایا کہ یہ معافی ان سزا یافتہ قیدیوں پر نافذ ہوگی، جنہیں دہلی کی فوجداری عدالتوں کے ذریعہ سزا سنائی گئی ہے۔ دہلی کی سنٹرل جیلوں یا دہلی سے باہر کی جیلوں میں سزا کاٹ رہے قیدیوں کو 26 جنوری کو چھوڑا جائے گا، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط کو پورا کرتے ہوں۔
آشیش سود کا کہنا ہے کہ 65 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کے لیے معافی کی حد اس طرح کی مقرر کی گئی ہے۔ 10 سال سے زائد کی سزا والے قیدیوں کو 90 روز، 5 سال سے زائد اور 10 سال تک کی سزا والے قیدیوں کو 60 روز، ایک سال سے زائد اور 5 سال تک کی سزا والے قیدیوں کو 30 روز اور ایک سال تک کی سزا والے قیدیوں کو 20 روز کی معافی دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر تمام قیدیوں کے لیے معافی کی حد مختلف ہوگی، جس میں 10 سال سے زائد کی سزا پر 60 روز، 5 سال سے زائد اور 10 سال تک کی سزا پر 45 روز، ایک سال سے زائد اور 5 سال تک کی سزا پر 30 روز اور ایک سال تک کی سزا پر 15 روز کی چھوٹ دی جائے گی۔
دہلی کے وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ یہ خصوصی معافی دہلی جیل کے قوانین 2018 کے تحت پہلے سے ملنے والی معافی کے علاوہ ہوگی۔ جو سزا یافتہ قیدی 26 جنوری کو پیرول یا فرلو پر ہوں گے وہ بھی اس معافی کے اہل ہوں گے، بشرطیکہ اس مدت کے دوران اس کے خلاف غلط طرز عمل کا کوئی معاملہ درج نہ ہوا ہو۔ یہ فائدہ صرف انہی قیدیوں کو دیا جائے گا، جنہیں گزشتہ ایک سال یعنی 26 جنوری 2025 سے 25 جنوری 2026 کے دوران جیل کے کسی بھی جرم کے لیے سزا نہ دی گئی ہے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ کچھ زمروں کے قیدی اس خصوصی معافی کے اہل نہیں ہوں گے۔ ان میں وہ قیدی شامل ہیں جنہیں سزائے موت دی گئی ہو یا جن کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہو، نظر بند افراد، سول قیدی یا سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی کے جرم میں بند قیدی، این ڈی پی ایس ایکٹ، پاکسو ایکٹ، سرکاری راز داری ایکٹ یا جاسوسی سے متعلق جرائم میں سزا یافتہ قیدی، کورٹ مارشل کے ذریعے سزا یافتہ، توہین عدالت کے مجرم یا بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کے تحت خواتین کے خلاف جرائم میں سزا یافتہ قیدی اور ایکٹ برائے دستاویزات مبادلہ اور دیگر مخصوص سول جرائم میں سزا یافتہ قیدی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفائیڈ استثنائی زمروں میں آنے والے معاملات بھی اس معافی کے دائرے سے باہر ہوں گے، جن میں آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست-1 میں درج موضوعات سے متعلق جرائم شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہلی حکومت اصلاحی انصاف کے اصولوں پر کاربند ہے، ساتھ ہی عوامی تحفظ اور آئینی و قانونی دفعات کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔