دہلی فسادات: مدینہ مسجد پر حملے کے معاملے میں پولیس کو عدالت کی پھٹکار

دہلی کی عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں گذشتہ سال ہوئے فسادات کے دوران مدینہ مسجد آتش زدگی معاملے میں پولیس کی سرزنش کی اور کہا ہے کہ اس معاملے میں دہلی پولیس کا رویہ غیر معقول اور جلدبازی پر مبنی ہے

دہلی فسادات کے کے دوران تباہ کیے گئے مکانات / Getty Images
دہلی فسادات کے کے دوران تباہ کیے گئے مکانات / Getty Images
user

یو این آئی

نئی دہل: دہلی کی ایک عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں گذشتہ سال ہونے والے فسادات کے دوران مدینہ مسجد شیووہار میں آتش زدگی کے ایک معاملے میں پولیس کی سرزنش کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیق کے دوران دہلی پولیس کا رویہ غیر معقول اور جلدبازی پر مبنی ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃ علمائے کی جاری ایک ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق اس مسجد میں فسادیوں نے توڑ پھوڑ کی تھی اور اس کے اندر دو ایل پی جی سلنڈر ڈال کر آگ لگا دی تھی۔سماعت کے دوران، ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے سب انسپکٹر سمن سے سوالات کیے، یہ وہ افسر ہے جسے سب سے پہلے ایس ایچ او نے کیس تفویض کیا تھا، عدالت نے اس سے پوچھا کہ اس نے کیا تحقیقات کی ہیں۔ سب انسپکٹر سمن نے بتایا کہ اس وقت وہ کورونا وائرس کی گرفت میں تھے۔

جج نے مزید پوچھا، "جب اسے (سب انسپکٹر) کو کورونا انفیکشن نہیں ہوا تھا، اس دوران اس نے کیا کیا، اس نے ڈی ڈی کی انٹری لکھی تھی اور اس معاملے میں اور کیا کیا ہوا، ا ب آپ کی زبان خاموش کیوں ہے؟" سب انسپکٹر سمن نے کہا کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ جج اس پر ناراض ہوئے اور کہا، "کیا مجھے پولس کمشنر کو لکھنا چاہے کہ فسادات کے معاملات میں جہاں ملزمیں نامزد ہیں، ہمارے افسر نے سوچا کہ اس معاملے میں تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر سب انسپکٹر نے کہا کہ وہ اس کے لئے معذرت خواہ ہیں۔جج نے کہا، "آپ نے کتنے عرصے تک اس شکایت کرنے والے (یعنی آپ کے بموجب ملزم) کو جیل میں رکھا، کون اس معاملے کا جواب دے گا؟ "ہاشم علی نے مدینہ مسجد میں آتش زنی کی شکایت کی تھی اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس نے ہاشم کی شکایت کو ایک مقامی شخص کی شکایت کے ساتھ جوڑا تھا اور دعوی کیا تھا کہ یہ چارج شیٹ کا حصہ ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے پولیس سے اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کو کہا،نیز وہ ایف آئی آر کی اصلی ڈائری بھی دکھائے جس میں پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے مدینہ مسجد میں آتش زنی کی شکایت درج کروائی ہے۔اس مقدمہ کی پیروی کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد کو مقرر کیا ہے جنھوں نے عدالت میں پولس کے رویے پر لگاتار سوال اٹھائے۔ ایک دوسرے معاملے میں عدالت نے حاجی محمد ہاشم کے بیٹے راشد کی گرفتاری پر روک لگادی ہے، پولس نے شکایت کرنے والے حاجی محمد ہاشم کو الٹے جیل میں بند کردیا تھا،اب ان کے بیٹے پر طبع آزمائی کا شک ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایک سال گزرنے کے باوجود مقدمہ کی تحقیق کے ذمہ دار سب انسپکٹر سمن کے رویے پر جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، انھوں نے کہا کہ ایسے سنجیدہ معاملات میں دہلی پولس کے ایک ذمہ دار افسر کے رویے کو معصومیت پر مبنی نہیں کہا جاسکتا بلکہ اس پر تادیبی کارروائی ہو نی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔