دہلی فساد: دہلی اسمبلی کے خلاف ’فیس بک عہدیدار‘ پہنچے سپریم کورٹ، نوٹس منسوخ کرنے کا مطالبہ

فیس بک انڈیا کے وائس پریزیڈنٹ اجیت موہن نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر اپیل کی ہے کہ کہ دہلی اسمبلی کی امن و ہم آہنگی کمیٹی کے ان کے خلاف جاری نوٹس کو منسوخ کر دیا جائے

سپریم کورٹ آف انڈیا - فائل تصویر / Getty Images
سپریم کورٹ آف انڈیا - فائل تصویر / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: فیس بک انڈیا کے وائس پریزیڈنٹ اجیت موہن نے دہلی فسادات کے معاملے میں دہلی اسمبلی کی کمیٹی کے نوٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر دی ہے۔ سپریم کورٹ میں بدھ کے روز اس عرضی پر سماعت ہونے جا رہی ہے۔ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس کرشنا مراری پر مشتمل بینچ اس معاملہ کی سماعت کرے گی۔

خیال رہے کہ دہلی فسادات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مبینہ کردار سے متعلق کارروائی کرتے ہوئے دہلی اسمبلی کی امن اور ہم آہنگی کمیٹی کے ذریعہ فیس بک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے نوٹس جاری کرتے ہوئے فیس بک انڈیا کے اعلی عہدیدار کو حاضر ہونے کا حکم دیا تھا لیکن وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

اس کے بعد دہلی قانون ساز اسمبلی کی امن اور ہم آہنگی کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک انڈیا کے وائس پریزیڈنٹ اور منیجنگ ڈائریکٹر اجیت موہن کو 23 ستمبر کو کمیٹی کے روبرو حاضر ہونے کے لئے ایک نیا نوٹس جاری کیا ہے۔ اتوار کے روز کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تنبیہ کی گئی کہ نوٹس کی عدم تعمیل کو آئینی طور پر حاصل استحقاق کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

اجیت موہن نے اپنی عرضی میں نوٹس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی اسمبلی کی کمیٹی انہیں حاضر ہونے پر مجبور نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ کے زیر غور ہے۔ خیال رہے کہ اجیت موہن پارلیمنٹ کی کمیٹی کے روبرو پیش ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا ’’دہلی میں پولیس اور عوامی امور مرکزی حکومت کے اختیار میں ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ فیس بک بادی النظر قصوروار ہے اور اس کے لئے ایک اضافی چارج شیٹ دائر کرنا ہوگی۔ عآپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ وہ عدالت نہیں ہے۔‘‘

next