دہلی فساد معاملہ: خالد سیفی اور تسلیم احمد کو عبوری ضمانت، یو اے پی اے میں ضمانت کا اہم سوال بڑی بنچ کو منتقل
سپریم کورٹ نے دہلی فساد معاملے میں خالد سیفی اور تسلیم احمد کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دے دی۔ عدالت نے یو اے پی اے کے تحت ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے سوال کو بڑی بنچ کے سپرد کر دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو دہلی فساد معاملے میں ملزم عبد الخالد سیفی اور تسلیم احمد کو 6 ماہ کی عبوری ضمانت دے دی۔ اس کے ساتھ عدالت نے ایک اہم قانونی سوال بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا کہ کیا غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون یعنی یو اے پی اے کے تحت سخت قانونی پابندیوں کے باوجود طویل قید اور مقدمے میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عدالتی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو استغاثہ کی طرف سے دونوں ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یو اے پی اے کے معاملات میں ضمانت کے اصول سے متعلق قانونی سوال اب بڑی بنچ طے کرے گی۔
خیال رہے کہ تسلیم احمد کو 24 جون 2020 کو کرائم برانچ نے گرفتار کیا تھا اور وہ تب سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ جبکہ عبد الخالد سیفی کو بھی اسی عرصے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں کی گرفتاری شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے دوران شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں ہوئی تھی۔
ان پر تعزیرات ہند، اسلحہ قانون، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی روک تھام قانون اور یو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 17 اور 18 کے تحت مقدمات درج ہیں۔
استغاثہ کے مطابق دونوں پر جعفرآباد، موج پور، چاند باغ اور گوکل پوری سمیت کئی علاقوں میں تشدد بھڑکانے اور مبینہ سازش کا حصہ ہونے کے الزامات ہیں۔ دوسری جانب تسلیم احمد کا مؤقف ہے کہ انہوں نے صرف شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کی تھی لیکن ان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کر دیے گئے۔
اس مبینہ سازش معاملے میں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گل فشاں فاطمہ، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان، شاداب احمد، اطہر خان اور دیگر ملزمان کے نام بھی شامل ہیں۔
سماعت کے دوران بنچ نے جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجل بھوئیاں کی حالیہ بنچ کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ حالیہ دنوں میں اس بنچ نے جنوری 2026 میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔ اس بنچ کا کہنا تھا کہ اس وقت 2021 میں تین ججوں کی بنچ کے دیے گئے اصولوں پر مناسب عمل نہیں کیا گیا تھا۔
ادھر، دہلی پولیس نے بھی عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس قانونی سوال کو بڑی بنچ کے سامنے رکھا جائے کہ کیا مقدمے میں غیر معمولی تاخیر اور طویل قید یو اے پی اے جیسے سخت انسداد دہشت گردی قانون میں ضمانت سے متعلق قانونی پابندیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اس پر سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ معاملہ چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے رکھا جائے تاکہ مناسب بڑی بنچ تشکیل دے کر اس اہم قانونی سوال پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
