دہلی میں دل دہلانے والا واقعہ! شمشان گھاٹ کے لئے دھکے کھاتا رہا ایک شخص، دو دن تک ماں کی لاش کو گھر میں رکھنے پر مجبور

ادھرسے ادھر دوڑتا رہا لیکن ہر شمشان گھاٹ پر کسی نہ کسی وجہ سے انکار کر دیا ۔ کہیں لکڑیاں نہیں تھیں تو کہیں کچھ اور۔۔۔

علامتی تصویر آئی اے این ایس 
علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نیوز 18 نےایک دل دہلانے والی خبر شائع کی ہے ۔ خبر میں ہے کہ دہلی کے رہنے والے نتیش کمار کو اپنی ماں کی میت کو دو دن تک گھر میں رکھنے پر مجبور ہو نا پڑا کیونکہ دہلی میں کسی بھی شمشان گھاٹ میں آخری رسومات ادا کرنے کے لئےجگہ نہیں تھی ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کورونا وبا نے کیا قہر مچا رکھا ہے۔

نتیش کمار نے والدہ کے انتقال کے دو دن بعد جمعرات کو ان کی آخری رسومات ایک عارضی شمشان گھاٹ میں اداکیں ۔یہ عارضی شمشان گھاٹ شمال مشرقی دہلی کےعلاقہ سیماپوری کےشمشان گھاٹ کے ساتھ ایک پارکنگ ایریا میں بنایا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق نتیش کمار نے نیوز 18 کو بتایا ’’ میں ادھرسے ادھر دوڑتا رہا لیکن ہر شمشان گھاٹ پر کسی نہ کسی وجہ سے انکار کر دیا ۔ کہیں لکڑیاں نہیں تھیں تو کہیں کچھ اور۔‘‘کمار نے بتایا کہ اس کی والدہ جو ایک ہیلتھ ورکر تھیں وہ دس روز پہلے کورونا متاثر ہوئی تھیں اور ان کو دہلی کےاسپتال میں بستر نہیں ملا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی۔

ہندوستان میں کورونا وباسےحالات بہت خوفناک ہیں اور کل ہی ہندوستان میں تین لاکھ 45 ہزار کورونا کے نئے معاملہ درج ہوئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد 2600 سے زیادہ ہے۔دہلی میں کئی اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی تھی جوکل سے بہتر ہوئی ہے۔دہلی میں اکیلے کل 348 افراد کی موت ہو ئی ہے۔


جیتندر سنگھ شنٹی جو بغیر منافع میں طبی خدمات فراہم کرتےہیں ان کا کہنا تھاکہ جمعرات کی دوپہر تک اس عارضی شمشان گھاٹ میں 60 میتوں کی آخری رسومات ادا ہو چکی ہے اور 15 کی ابھی ہونا باقی ہے۔ انہوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ ایسے حالات کا کوئی تصوربھی نہیں کر سکتا ۔ انہوں نےبتایا کہ 5 سال کے بچے15 سال کے بچے اور 25 سال کےنوجوانوں کی آخری رسومات ہوتے وہ دیکھ رہےہیں ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Apr 2021, 8:11 AM