دہلی میں بجلی مہنگی ہونے کے آثار، 500 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والوں پر اضافی بوجھ متوقع
دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے بجلی کمپنیوں کو اضافی سرچارج وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ 500 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے غیر سبسڈی صارفین کے بلوں میں ایک سے 3.30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے

دہلی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب بجلی صارفین کو بھی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو فیول اینڈ پاور پرچیز ایڈجسٹمنٹ سرچارج میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں خاص طور پر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں اضافہ متوقع ہے۔
حکام کے مطابق بجلی کی شرح میں ایک سے 3.30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان تجارتی، صنعتی اور گھریلو صارفین پر پڑے گا جو دہلی حکومت کی بجلی سبسڈی اسکیم کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔ اندازہ ہے کہ 500 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے ہزاروں صارفین کو آنے والے مہینوں میں زیادہ بل ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب 0 سے 200 یونٹ اور 201 سے 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے بیشتر صارفین پر اس فیصلے کا فوری اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح وہ گھریلو صارفین جو دہلی حکومت کی مکمل یا 50 فیصد بجلی سبسڈی حاصل کر رہے ہیں، ان کے بلوں پر فی الحال کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
ریگولیٹری کمیشن نے اپریل 2026 کے لیے بجلی خرید لاگت ایڈجسٹمنٹ فیس عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو 16 سے 18 فیصد تک اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران، کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بجلی خریدنے کے اخراجات میں اضافے کے باعث یہ قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق درآمدی اخراجات اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے خرچ نے کوئلے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کا براہ راست اثر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی لاگت پر پڑا ہے۔ یہی اضافی بوجھ اب مرحلہ وار صارفین تک منتقل کیا جا رہا ہے۔
دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن نے بجلی کمپنیوں پر عائد 10 فیصد سرچارج کی حد بھی ختم کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے بجلی کمپنیوں کو مالی دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملے گی، تاہم غیر سبسڈی والے صارفین کے لیے بجلی کے بل مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
معلومات کے مطابق مشرقی اور وسطی دہلی میں بجلی فراہم کرنے والی بی ایس ای ایس یمنا پاور لمیٹڈ کے صارفین کے بلوں میں تقریباً 5.7 فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو آنے والے دنوں میں مہنگے بجلی بلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
