دہلی پولیس نے سابق آئی اے ایس آشیش جوشی کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی، ’آن لائن سرگرمی‘ سے نشانے پر!
دہلی پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسپیشل سیل نے 2 روز قبل جوشی کے خلاف ان کی ’آن لائن سرگرمی‘ کے سلسلے میں بی این ایس (بھارتیہ نیائے سنہیتا) کی دفعہ 192 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

دہلی پولیس نے سابق آئی اے ایس آشیش جوشی کو ایک ’آن لائن سرگرمی‘ معاملہ میں پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا تھا، اور پوچھ تاچھ کے بعد انھیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ پوچھ تاچھ بدھ کی صبح انھیں حراست میں لینے کے بعد شروع ہوئی تھی اور بوقت شام دہلی اسپیشل سیل کے اہلکاروں نے انھیں واپس گھر چھوڑ دیا۔
اس بارے میں انگریزی نیوز پورٹل ’دی پرنٹ‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں متعلقہ افسران کے حوالے سے کچھ اہم جانکاریاں دی گئی ہیں۔ دہلی پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسپیشل سیل نے 2 روز قبل جوشی کے خلاف ان کی ’آن لائن سرگرمی‘ کے سلسلے میں بی این ایس (بھارتیہ نیائے سنہیتا) کی دفعہ 192 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ دفعہ ’فساد برپا کرنے کے ارادہ سے قصداً اشتعال دلانے‘ سے متعلق ہے۔ 1992 بیچ کے انڈین پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونکیشن اکاؤنٹس اینڈ فائنانس سروس (آئی پی اینڈ ٹی اے ایف ایس) کے افسر جوشی کو پوچھ تاچھ کے بعد شام کو رِہا کر دیا گیا۔ شام تقریباً 7.30 بجے آشیش جوشی نے خود ہی اس کی جانکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دی۔ انھوں نے لکھا کہ ’’ابھی گھر واپس آیا ہوں۔ دہلی اسپیشل سیل مجھے گھر چھوڑ کر گیا۔ تفصیلات بعد میں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آشیش جوشی نے رواں سال مارچ میں ہی حکومت ہند کے ایڈیشنل سکریٹری عہدہ سے ریٹائرمنٹ لی تھی۔ 2019 میں انھیں مبینہ طور پر سول سروس کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے سے متعلق معاملہ میں معطل کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اس وقت ’ایکس‘ پر باغی عآپ رکن اسمبلی کپل مشرا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، جو ایک متنازعہ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد تنقید کی زد میں تھے۔ اس وقت میڈیا ادارہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’’میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے میں صرف متعلقہ حکام کو اطلاع دینے کا اپنا کام کر رہا تھا۔ مجھے اپنے کیے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔‘‘
بہرحال، بدھ کی صبح جب آشیش جوشی کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبر گردش کرنے لگی کہ جوشی کو سادہ لباس میں دہلی پولیس کے اہلکار اٹھا لے گئے ہیں۔ سابق رکن اسمبلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر سندیپ دیکشت نے ’ایکس‘ پر جوشی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’آج صبح میرے اچھے دوست اور سول سوسائٹی تک پہنچنے میں میری مدد کرنے والے آشیش جوشی bismil_prasad@ (ریٹائرڈ ایڈیشنل سکریٹری) کو نہرو پارک سے 2 پولیس کانسٹیبل اپنے ساتھ لے گئے۔ مجھے صبح ان کی اہلیہ سے بات کرنے کے بعد اس بارے میں معلوم ہوا۔ ہم صبح 10 بجے سے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں اور DelhiPolice @CPDelhi@ کو جلد از جلد ہمیں بتانا چاہیے کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔‘‘
کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے بھی اس بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ جاری کی، جس میں لکھا کہ ’’سابق بیوروکریٹ آشیش جوشی bismil_prasad@ کو آج دہلی میں صبح کی سیر کے دوران سادہ لباس میں موجود 2 دہلی پولیس اہلکار اٹھا کر لے گئے۔ ان کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں ہے۔ کیا مودی حکومت ان کی سوشل میڈیا پوسٹس سے اتنی بے چین ہے کہ اسے اس طرح کا قدم اٹھانا پڑ رہا ہے؟‘‘ نیوز پورٹل ’دی پرنٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ ادارہ سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر پولیس افسر نے جوشی کو حراست میں لیے جانے کی بات کہی۔ افسر نے کہا کہ ’’ایک معاملے میں ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے اور انہیں جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔‘‘ افسر نے ایف آئی آر یا مقدمے میں لگائی گئی دفعات کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ میڈیا رپورٹ میں دہلی پولیس کے ایک دیگر افسر کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ ’’مقدمہ 2 روز قبل درج کیا گیا تھا۔ انہیں (آشیش جوشی) پوچھ تاچھ کے لیے بلایا گیا اور پابند کیا گیا۔ یہ قابل ضمانت جرم ہے۔‘‘
دراصل سابق سول سرونٹ کی کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں سی جے پی کے احتجاج پر بھی پوسٹ کیا تھا۔ ان کی ایک پوسٹ، جسے بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا، میں لکھا تھا کہ ’’سول سروسز گریپ وائن۔ طلبا کے خلاف کارروائی سے متعلق ایچ ایم اور ایچ ایس کے درمیان زبردست اختلاف ہوا تھا۔ ایچ ایس طلبا کے خلاف سخت پولیس کارروائی کے مخالف تھے۔ میدان میں موجود جونیئر افسران کی جانب سے بھی مزاحمت تھی۔ ایچ ایس معاملہ کو بڑھانا نہیں چاہتے تھے، لیکن ایچ ایم کے اعتراض کے باوجود انہیں توسیع دے دی گئی۔ شہری ان باتوں کے درمیان کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ریلی کے بعد ہلدوانی میں ہونے والی ’شدھی کرن‘ پر بھی سوشل میڈیا پوسٹ کی تھی۔
