دہلی: پولس کمشنر پٹنائک کی پولس اہلکاروں سے کام پر لوٹنے کی اپیل

دہلی پولس کمشنر امولیہ پٹنائک نے پولس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کر نے والے پولس اہلکاروں کو انصاف کا بھروسہ دلاتے ہوئے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی پولس کمشنر امولیہ پٹنائک نے پولس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کر نے والے پولس اہلکاروں کو انصاف کا بھروسہ دلاتے ہوئے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ پٹنائک نے پولس اہلکاروں سے کہا کہ یہ وقت دہلی پولس کے لئے امتحان کی گھڑی ہے اور پولس والوں کی ساری شکایتیں دور کی جائے گی۔ دہلی پولس کے لئے یہ امتحان، توقع اور انتظار کا وقت ہے۔ حکومت اور دہلی کو عوام کو پولس والوں سے کافی توقع رہتی ہے کیونکہ ہم قانون کے رکھوالے ہیں۔ انتظار کی گھڑی ہے کیونکہ تیس ہزاری عدالت کے احاطے میں جو واقعہ ہوا ہے اس میں ہائی کورٹ کی جانب سے عدالتی تحقیقات کا حکم دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تحقیقات میں انصاف ملے گا اور انتظار کرنے کی ضرورت ہے پولس کمشنر نے پولس اہلکاروں کے سمجھاتے ہوئے کہا کہ آپ کے دماغ میں جو خدشہ ہے اسے ہم سمجھ رہے ہیں۔ ہم قانون کے رکھوالے ہیں اور عوام کو ہم سے امید ہے اور ہمارا برتاؤ بھی اسی طرح کا ہونا چاہئے۔ انہوں نے پولس اہلکاروں کی تمام شکایات دور کرنے کا بھی یقین دلایا۔


پٹنائک نے پولس اہلکاروں کو بھروسہ دلایا کہ وکلاء کے ساتھ پولس کی جھڑپ کے معاملے کو لے کر دہلی ہائی کورٹ کی پہل پر ایک عدالتی تحقیقات شروع کی جا رہی ہے اور ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ عدالتی جانچ صحیح طریقے سے ہوگی۔ غور طلب ہے کہ گذشتہ ہفتہ کو یہاں کی تیس ہزاری کورٹ میں دہلی پولس اور وکلاء کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھی، پولس اہلکاروں کا الزام ہے کہ وکلاء نے پولس کے کئی جوانوں کو مارا پیٹا گیا اور ساتھ میں تیس ہزاری کورٹ احاطے میں کئی مقامات پر آگ زنی بھی کی۔

وکلاء کی طرف سے پولس اہلکاروں کی پٹائی کے بہت سے ویڈیو وائرل بھی ہوئے ہیں۔ مختلف عدالتوں کے مظاہرے کرنے والے وکلاء نے کل بھی کچھ پولس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ اور دھکا مکی کی تھی۔ پولس اہلکاروں کی اس پٹائی کی مخالفت میں ہی دہلی پولس ہیڈکوارٹر کے باہر پولس اہلکار احتجاج کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وکیل بھی پیر سے ہڑتال پر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Nov 2019, 4:51 PM