جامعہ تشدد معاملہ: مقامی رہنما آشو خان ​​گرفتار، دو دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا

گرفتاری کے فوری بعد آشو خان کو عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے آشو خان کو دو دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ٹیم نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران 15 دسمبر کو نیو فرینڈس کالونی کے قریب ہوئے تشدد کے کیس میں جامعہ نگر علاقے کے مقامی رہنما آشو خان کو ہفتہ کے روز گرفتار کیا۔ گرفتاری کے فوری بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے آشو خان کو دو دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔

آئی اے این ایس کو اطلاع دیتے ہوئے دہلی پولیس کے ترجمان انیل متن نے کہا، ’’آشو خان کے خلاف جامعہ نگر اور فرینڈس کالونی میں تشدد کے معاملے درج تھے۔ پولیس کے ذریعے تحقیقات کے بعد اسے آج یہاں گرفتارکرکےساکیت کورٹ ڈیوٹی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے یہاں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اسے دو دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔‘‘

دہلی پولیس کے ترجمان نے کہا، ’’آشو خان کو تشدد کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کی تلاش 15 دسمبر 2019 سے دہلی پولیس کو تھی۔ ملزم کو ہفتہ کے روز ساکیت عدالت میں ڈیوٹی ایم ایم (میٹروپولیٹن مجسٹریٹ) کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے اسے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔‘‘

غور طلب ہے کہ جامعہ میں گذشتہ سال دسمبر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے نیوفرینڈس کالونی اور جولینا کے قریب ہونے والے تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ یہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر بسوں کو نذر آتش کردیا تھا۔ پولیس مظاہرین کا تعاقب کرتے ہوئے جامعہ کیمپس اور لائبریری میں داخل ہوئی اور طلبا کو بے رحمی وحشیانہ طور پر جم کر زد و کوب کیا اور لائبریری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس معاملے میں ، جامعہ کی انتظامیہ نے پولیس کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع بھی کیا ہے۔