دہلی میں عوام نے ’نفرت کی سیاست‘ کو پوری طرح مسترد کر دیا: سنجے سنگھ

سنجے سنگھ نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی نے دہلی اسمبلی انتخابات میں اپنی پوری سرکاری مشنری لگا دی تھی، لیکن عوام نے ’کام‘ کو ووٹ دیا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی انتخابات کے رجحانات سے خوش عام آدمی پارٹی کے سرکردہ لیڈر سنجے سنگھ نے اپنا پہلا رد عمل میڈیا کے سامنے دیتے ہوئے کہا کہ ’’عوام نے نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ’کام‘ کو ووٹ دیا ہے، اور اس کے لیے دہلی کے لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’عوام نے ترقی اور قوم پرستی کا انتخاب کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ منفی سیاست کو پسند نہیں کرتے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ رجحانات میں عآپ بہت آسانی کے ساتھ حکومت سازی کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور بی جے پی ایک درجن سیٹ بھی حاصل کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں سنجے سنگھ نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی نے دہلی اسمبلی انتخابات میں اپنی پوری سرکاری مشنری لگا دی تھی۔ اس نے پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی، کئی سابق وزرائے اعلی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ساتھ دیگر مرکزی وزرا کو بھی انتخابی تشہیر میں لگا دیا تھا۔ لیکن آج ہندوستان جیت گیا ہے۔‘‘

کئی بی جے پی سرکردہ لیڈروں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو دہشت کہے جانے کا معاملہ بھی آج سنجے سنگھ نے اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ اسی پارٹی (بی جے پی) نے اروند کیجریوال کو دہشت گرد قرار دیا تھا لیکن انھوں نے اس پر کوئی جواب دینے کی جگہ عوام سے صرف اتنا کہاتھا کہ ’آپ کا بیٹا ہوں اور آپ کی خدمت کی ہے‘۔ آج جو رجحانات سامنے آ رہے ہیں اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ عوام بی جے پی کی تقسیم کرنے والی سیاست کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔