مرکزی حکومت کے خلاف لوگوں نے درخت سے چپک کر چلائی ’چِپکو تحریک‘

دہلی کی از سر نو تعمیر منصوبہ کے تحت 16500 درختوں کو کاٹے جانے کے فیصلہ کے خلاف سروجنی نگر، نیتا جی نگر اور قدوائی نگر وغیرہ کے عوام کا احتجاجی مظاہرہ لگاتار تیز ہوتا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ملک کی راجدھانی دہلی کی از سر نو تعمیر کے نام پر مرکز کی مودی حکومت نے 16500 درختوں کو کاٹنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد نہ صرف ماحولیات سے محبت رکھنے والے لوگ بلکہ عوام میں بھی زبردست ناراضگی ہے۔ اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے مقصد سے آج یعنی 24 جون کو دہلی کے سروجنی نگر علاقے میں لوگوں کا جم غفیر ہاتھ میں تختی لے کر درخت کاٹے جانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ لوگوں نے تختیوں کے ساتھ ساتھ درختوں سے چپک کر 'چِپکو تحریک' بھی چلائی۔ قابل ذکر ہے کہ 23 جون کو بھی لوگوں نے مرکزی حکومت کے ذریعہ ہزاروں کی تعداد میں درخت کاٹنے کے فیصلے کے خلاف درختوں سے چپک کر مظاہرہ کیا تھا۔

آج لوگوں نے صرف سروجنی نگر ہی نہیں بلکہ نوروجی نگر اور نیتا جی نگر میں بھی دہلی کی از سر نو تعمیر منصوبہ کے تحت درخت کاٹے جانے کی مخالفت کی اور زبردست مظاہرہ کیا۔ سڑکوں پر لوگوں کی مخالفت کے ساتھ ہی ساتھ سوشل میڈیا پر بھی درخت کاٹنے کے خلاف مہم تیز ہو گئی ہے۔ سروجنی نگر میں احتجاجی مظاہرہ کرنے سڑکوں پر اترے لوگوں کا کہنا تھا کہ سندر نگر میں پہلے ہی کئی درخت کاٹے جا چکے ہیں اور اب سروجنی نگر کے ساتھ ساتھ آر کے پورم کی باری ہے۔ مظاہرین اس موقع پر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو درخت کٹ چکا ہے اس کا کچھ نہیں کیا جا سکتا لیکن یہاں ماحولیات کے دشمنوں کی منشا کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

اسٹینڈ اَپ کامیڈین اور ماحولیات کے ماہر واسو پریملانی نے بھی درخت کاٹے جانے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے تو اس سلسلے میں آئندہ 29 جون کو وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماحولیات کو نقصان پہنچا کر ہم از سر نو ترقی کی بات قبول نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ دہلی کی از سر نو تعمیر منصوبہ کو مرکزی حکومت سے منظوری مل چکی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت دہلی میں 16500 درخت کاٹے جانے ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت تنہا سروجنی نگر میں 11 ہزار سے زائد درخت کاٹے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نیتا جی نگر میں 2294، قدوائی نگر میں 1123 اور نیروجی نگر میں 1454 درختوں کو کاٹاجانا ہے۔ اس طرح بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے دہلی کی آب و ہوا پر اثر پڑنا لازمی ہے، یہی سبب ہے کہ ماہرین ماحولیات کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی مودی حکومت کے خلاف متحد نظر آرہے ہیں اور سڑکوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔