دہلی: نرسری اور ابتدائی جماعتوں میں داخلہ کے لیے عمر کی حد میں تبدیلی، قواعد مزید سخت
دہلی میں نرسری اور ابتدائی جماعتوں کے داخلے 4 دسمبر سے شروع ہوں گے۔ عمر کی حد اس بار واضح کر دی گئی ہے اور قرعہ اندازی کی ویڈیوگرافی لازمی ہوگی۔ والدین نے منیجمنٹ کوٹا غیر شفاف قرار دیا ہے

نئی دہلی: دہلی میں نرسری اور ابتدائی جماعتوں میں داخلوں کا عمل رواں برس 4 دسمبر سے شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے ساتھ ہی والدین کی تیاریاں اور تشویشیں ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، شعبۂ تعلیم نے سیشن 2026–27 کے لیے عمر کی حد کو اس مرتبہ بالکل واضح کر دیا ہے، جس کے مطابق نرسری کے لیے تین سے چار سال، کے جی کے لیے چار سے پانچ سال اور پہلی جماعت کے لیے پانچ سے چھ سال کی عمر لازمی ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق، سابقہ برسوں میں کم سے کم عمر کی بنیاد پر داخلے ہوتے تھے مگر اب پوری عمر کی مخصوص حد مقرر کر کے کسی بھی ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پرنسپل کو ضرورت کے مطابق ایک ماہ تک عمر میں رعایت دینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، تاہم یہ مکمل طور پر ان کی صوابدید پر منحصر ہوگا۔
داخلہ عمل 4 دسمبر سے شروع ہو کر 27 دسمبر تک جاری رہے گا، جس کے بعد درخواستوں کی جانچ اور قرعہ اندازی کا مرحلہ شروع ہوگا۔ پہلی فہرست 23 جنوری کو جاری کی جائے گی اور اسی کے ساتھ والدین کو پوائنٹس یا معیار سے متعلق اعتراضات داخل کرنے کی مہلت بھی ملے گی۔ دوسری فہرست 9 فروری کو آئے گی، جبکہ خالی نشستوں کے لیے اضافی فہرست 5 مارچ کو پیش کی جائے گی۔
مکمل داخلہ عمل 19 مارچ تک ختم ہو جائے گا۔ یہ شیڈول مجموعی طور پر گزشتہ برسوں کی روایت کے مطابق ہے، البتہ تاریخوں میں معمولی ردوبدل کیا گیا ہے تاکہ پورے عمل کو وقت پر اور منظم انداز میں مکمل جا سکے۔
آن لائن درخواست دینے کے لیے والدین کو edudel.nic.in پر جا کر مقررہ فارم بھرنا ہوگا، جس کے ساتھ پتہ، عمر اور دیگر ضروری دستاویزات اپلوڈ کرنا لازمی ہوگا۔ رجسٹریشن فیس گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی 25 روپے ہی رکھی گئی ہے۔ اس بار جس پہلو پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے، وہ قرعہ اندازی کی مکمل ویڈیوگرافی ہے۔ شعبۂ تعلیم نے واضح ہدایت دی ہے کہ پورا عمل کیمرے کے سامنے شفاف انداز میں مکمل کیا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کے تنازع یا شکایت کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی اسکول کو متنازع یا ممنوعہ معیار اپنانے کی اجازت نہیں ہوگی اور آر پی ڈبلیو ڈی ایکٹ (معذور افراد کے حقوق کا قانون) پر عمل آوری بھی لازم ہوگی۔
اس دوران کئی والدین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منیجمنٹ کوٹے کے نام پر داخلہ عمل کو جس طرح پیچیدہ اور غیر شفاف بنا دیا جاتا ہے، وہ عام والدین کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو ہے۔ ان کے مطابق صاف، منصفانہ اور شفاف داخلہ ہر بچے کا حق ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ منیجمنٹ کوٹے کو بھی واضح اور عوامی نظام کے ذریعے نافذ کیا جائے تاکہ ہر والدین کو یکساں موقع میسر آ سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔