دہلی: آلودگی کے خلاف این ایس یو آئی کا زبردست احتجاج، ’پبلک ہیلتھ ایمرجنسی‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو بنایا ہدف تنقید

ورون چودھری نے کہا کہ ’’فضائی آلودگی اب صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ قومی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ طلبہ روزانہ زہریلی ہوا میں سانس لینے کو مجبور ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@nsui</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی میں مسلسل بگڑتے ہوئے فضائی معیار کے خلاف آج نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے قومی راجدھانی میں زبردست احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری کی قیادت میں ہوئے اس احتجاج میں حکومت سے فوری طور پر ’پبلک ہیلتھ ایمرجنسی‘ اعلان کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے زہریلی ہوا کو طلبہ اور عام لوگوں کی صحت کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کارکنان نے راجدھانی کی بگڑتی ہوئی ہوا پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ آلودگی کی سطح خطرناک حد کو پار کر چکی ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر طلبہ، بچوں اور بزرگوں پر پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اور مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ این ایس یو آئی کے مطابق یہ احتجاج مکمل طور سے پرامن تھا، لیکن اسے روکنے کے لیے پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ تنظیم نے سوال اٹھایا کہ جب لوگو زہریلی ہوا میں سانس لینے کو مجبور ہیں تب حکومت آلودگی پر کنٹرول کرنے کے بجائے احتجاج کی آواز دبانے میں کیوں مصروف ہے؟ ساتھ ہی این ایس یو آئی نے اسے عوامی صحت کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔


احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے کہا کہ ’’فضائی آلودگی اب صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ قومی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ طلبہ روزانہ زہریلی ہوا میں سانس لینے کو مجبور ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ پرامن احتجاج کو روکنے کے بجائے بی جے پی حکومت کو فوری طور پر ’پبلک ہیلتھ ایمرجنسی‘ کا اعلان کرنا چاہیے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

این ایس یو آئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب تک فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اور فوری اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، تب تک ان کی جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔ تنظیم نے کہا کہ طلبہ اور عام لوگوں کی صحت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس مسئلہ پر حکومت کے خلاف دباؤ بنانا جاری رہے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔