دہلی: ریلیف کیمپوں میں مقیم بچوں کے لیے محمد عباس نے شروع کی ’مستی کی پاٹھ شالہ‘

محمد عباس نے بتایا کہ ’مستی کی پاٹھ شالہ‘ میں بچے کھیل کھیل میں پڑھائی کرتے ہیں، ایک گھنٹے کی کلاس میں ان کے اندر موجو د ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ریلیف کیمپ میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے محمد عباس</p></div>

ریلیف کیمپ میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے محمد عباس

user

محمد تسلیم

نئی دہلی: راجدھانی دہلی میں جمنا کی آبی سطح میں بھلے ہی گراوٹ آ گئی ہے لیکن جمنا کے کنارے بسنے والوں کی زندگی ابھی بھی معمول پر نہیں لوٹی ہے۔ لوگ اپنے خاندان اور مویشیوں کے ساتھ ریلیف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ جمنا کنارے رہنے والے یہ لوگ زیادہ تر کسان ہیں جو کھیتی باڑی کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ تاہم برسوں سے یہ لوگ جمنا کنارے آباد ہیں۔

جمنا اس وقت آبی سطح سے اوپر بہہ رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے حالات دگرگوں ہو گئے ہیں۔ ایک جانب ان کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا اور کھیتی کا بھی نقصان ہوا۔ وہیں دوسری طرف کیمپوں میں ایسے بھی بچے ہیں جن کا اسکول کا بستہ کاپی، کتابیں سیلاب کی نذر ہو گئی ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو اور وہ اسکول سے نہ دور ہو جائیں، اسی کو دیکھتے ہوئے محمد عباس نے اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر روزانہ ایک گھنٹہ ریلیف کیمپ کے بچوں کیلئے ’مستی کی پاٹھ شالہ‘ شروع کی ہے۔اس میں وہ بچوں کو تعلیم سے متعلق مختلف سرگرمیوں کے ذریعہ بچوں میں تعلیم کے تئیں ذوق و شوق پیدا کر رہے ہیں۔ محمد عباس پیشہ سے ٹیچر ہیں اور جامع مسجد اُردو میڈیم نمبر 1 میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہیں۔


’مستی کی پاٹھ شالہ‘ کے تعلق سے بات کرتے ہوئے محمد عباس نے بتایا کہ وہ گیتا کالونی فلائی اوور کے راستے جامع مسجد اسکول میں بچوں کو پڑھانے جاتے ہیں۔ ایک روز انہوں نے بچوں کو سڑک پر اِدھر اُدھر بھاگتے اور آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا، اس لیے انہیں لگا کہ یہ بچے اپنے گھر سے ہٹ کر کیمپوں میں مقیم ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ان کو خوشنما ماحول نہیں مل پا رہا ہے۔ بچے تعلیم سے دور ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں چڑچڑا پن آ گیا ہے۔ بس یہی سوچ کر وہ اسکول سے واپس آتے ہی ان ریلیف کیمپوں کے اندر جانے لگے اور وہاں تمام بچوں کو اکٹھا کر کے ’مستی کی پاٹھ شالہ‘ شروع کی تاکہ جو بچے تعلیم سے دور ہو چکے ہیں انہیں بھی تعلیم سے جوڑ دیا جائے۔

دہلی: ریلیف کیمپوں میں مقیم بچوں کے لیے محمد عباس نے شروع کی ’مستی کی پاٹھ شالہ‘

عباس نے بتایا کہ شروع میں انہوں نے دیکھا کہ بچوں کے پاس نہ تو کتابیں تھیں اور نہ ہی نوٹ بکس کیونکہ ان کا سارا سامان جمنا کے پانی میں بہہ گیا تھا۔ اس لیے سب سے پہلے میں نے اپنے ذاتی خرچ سے بچوں میں کتابیں، نوٹ بک، پنسل، قلم، رنگ، شارپنر اور اسٹیشنری کا سامان تقسیم کیا تاکہ کم از کم ابتدائی طور پر وہ بچے پڑھنا شروع کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شروع شروع میں ایسا لگتا تھا کہ نہ تو بچے پڑھائی کے لیے اکٹھے ہوں گے اور نہ ہی پڑھائی میں ان کا من لگے گا۔ لیکن جب میں نے دو بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو دھیرے دھیرے دوسرے بچے بھی آنا شروع ہو گئے اور ان کا پڑھائی میں دل لگنے لگا۔


ٹیچر عباس نے بتایا کہ ’مستی کی پاٹھ شالہ‘ میں بچے کھیل کھیل میں پڑھائی کرتے ہیں ساتھ ہی لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ ایک گھنٹے کی کلاس میں ان کے اندر موجو د ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ تعلیم کے دوران میں نے محسوس کیا کہ بچوں کا ذہنی تناؤ بھی کم ہوا ہے اور اب بچے خود تعلیم کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ عباس نے مزید بتایا کہ وہ یہ کام کسی مفاد کے لیے نہیں کر رہے بلکہ ان کا عزم ہے کہ کوئی بچہ بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے اس کے لئے ہی وہ ایک ادنی سی کوشش کر رہے ہیں اور آگے بھی کرتے رہیں گے۔ تعلیم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد عباس نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کا خواب تھا کہ آزاد ہندوستان میں کوئی بھی ایسا شخص نہ ہو جو تعلیم سے دور رہے۔ تعلیم ہی ہم سب کے روشن مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ تعلیم کے ذریعہ سے ہی ہم زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے سماج میں ایسے بچوں کی مدد کرتے رہنا چاہئے جو تعلیم پا کر اپنا مستقبل روشن کر سکتے ہیں۔ ہمارا ملک تب ہی ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے جب ہر فرد تعلیم یافتہ ہو، اس کے لیے میں نے ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے اور مجھے کامیابی مل رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */