دہلی: احتجاج کے لیے مشہور ’جنتر منتر‘ روڈ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، تمام بیریکیڈز ہٹا دیے گئے
1988 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں کسانوں نے دہلی کے بوٹ کلب علاقے میں بڑا احتجاج کیا تھا۔ بوٹ کلب پر پابندیوں کے بعد 1993 میں جنتر منتر روڈ احتجاجی مظاہروں کا بنیادی مرکز بن گیا۔
قومی راجدھانی دہلی کے مرکز میں واقع مشہور احتجاجی مقام ’جنتر منتر‘ سے متصل سڑک پر اب عام لوگوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق بحال ہو گئی ہے۔ سیکورٹی جائزے اور راجدھانی میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے پُرامن ماحول کے بعد دہلی پولیس نے یہاں گزشتہ کئی برسوں سے لگائے گئے بھاری بیریکیڈز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تقریباً 3 دہائیوں بعد اس مخصوص علاقے میں لگائی گئی مستقل اور عارضی رکاوٹیں (بیریکیڈز) ہٹا دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اشوک روڈ کو ٹالسٹائے مارگ سے جوڑنے والی مرکزی سڑک پر معمول کی آمد و رفت بحال کر دی گئی ہے۔ اب اس راستے سے گزرنے والے روزانہ کے مسافروں اور گاڑی چلانے والوں کو متبادل اور طویل راستوں سے راحت ملے گی۔
واضح رہے کہ ’سی جے پی‘ کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد گزشتہ ماہ دہلی پولیس نے ’جنتر منتر‘ کو باضابطہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ حالانکہ سیکورٹی کی صورتحال اور دیگر احتجاجی مظاہروں سے متعلق اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں نے یہاں احتیاطاً بھاری بیریکیڈنگ برقرار رکھی تھی۔ راجدھانی میں حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق امن و امان کی صورتحال اور سیکورٹی جائزے کے بعد سینئر افسران نے بیریکیڈز ہٹا کر راستہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ سڑک کھلنے کے بعد اب جنتر منتر روڈ پر گاڑیوں کی آمد و رفت ہموار طریقے سے شروع ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنتر منتر کی پکار سنیے!... اے جے فلپ
قابل ذکر ہے کہ جنتر منتر کئی تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا گواہ رہا ہے۔ جنتر منتر 1993 میں دہلی میں دھرنا اور احتجاج کے مقررہ مقام کے طور پر سامنے آیا تھا۔ دراصل 1988 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں کسانوں نے دہلی کے بوٹ کلب علاقے میں بڑا احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد وہاں مظاہروں پر پابندیاں سخت کر دی گئی تھیں۔ بوٹ کلب پر پابندیوں کے بعد 1993 میں جنتر منتر روڈ احتجاجی مظاہروں کا بنیادی مرکز بن گیا۔ حالانکہ اس کی شروعات کسی باضابطہ سرکاری اعلان کے بجائے انتظامی انتظامات کے تحت ہوئی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
