آسام کا برنیہاٹ، اتر پردیش کا غازی آباد اور دہلی ہندوستان کے تین سب سے زیادہ آلودہ شہر
تقریباً 44 فیصد ہندوستانی شہروں کو طویل مدتی فضائی آلودگی کا سامنا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قلیل مدتی واقعات کے بجائے اخراج کے ذرائع سے مسلسل اخراج کا نتیجہ ہے۔

تقریباً 44 فیصد ہندوستانی شہروں کو طویل مدتی فضائی آلودگی کا سامنا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قلیل مدتی واقعات کے بجائے اخراج کے ذرائع سے مسلسل اخراج کا نتیجہ ہے۔ یہ معلومات سینٹر فار انرجی اینڈ کلین ایئر ریسرچ (سی آر ای اے) کی ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں فراہم کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 44 فیصد شہروں کو طویل مدتی فضائی آلودگی کا سامنا ہے، صرف چار فیصد نیشنل کلین ایئر پروگرام (این سی اے پی)کے تحت آتے ہیں۔ سی آر ای اے نے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان بھر کے 4,041 شہروں میں PM 2.5 ذرات کی سطح کا اندازہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، "ان 4,041 شہروں میں سے کم از کم 1,787 میں گزشتہ پانچ سالوں میں پی ایم 2.5 ذرات کی سطح قومی سالانہ معیار سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، کووڈ-19 سے متاثرہ سال کو چھوڑ کر۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 44 فیصد ہندوستانی شہر طویل عرصے سے فضائی آلودگی کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ قلیل مدتی واقعات کے بجائے اخراج کے ذرائع سے مسلسل اخراج کا نتیجہ ہے۔
2025 میں PM2.5 ذرات کی سطح کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ میں برنیہاٹ (آسام)، دہلی، اور غازی آباد (اتر پردیش) کو ہندوستان کے تین سب سے زیادہ آلودہ شہروں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں نوئیڈا چوتھے، گروگرام پانچویں، گریٹر نوئیڈا چھٹے، بھیواڑی ساتویں، حاجی پور آٹھویں، مظفر نگر نویں اور ہاپوڑ دسویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے، "اس کے باوجود، اس مسئلے کا سامنا کرنے والے شہروں میں سے صرف چار فیصد فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے ہندوستان کے فلیگ شپ این سی اے پی منصوبے کے تحت آتے ہیں۔ صرف 130 شہر این سی اے پی کے تحت شامل ہیں، اور ان میں سے صرف 67 شہر ان 1,787 شہروں میں شامل ہیں جو کئی سالوں سے سنٹرل پولیشن بورڈکے مقرر کردہ نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔" (انپٹ بشکریہ نیوز پورٹل، ’اے بی پی‘)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔