دہلی: آٹو رکشہ اور ٹیکسی پر سفر کرنے والوں کو لگا زوردار جھٹکا، حکومت نے کرایوں میں اضافہ کو دی منظوری

حکومت کے نئے نرخ کے مطابق پہلے ڈیڑھ کلومیٹر کے لیے 25 روپے ادا کرنے پڑتے تھے، اب نئے کرائے کے مطابق 30 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

دہلی میں آٹو اور ٹیکسی / آئی اے این ایس
دہلی میں آٹو اور ٹیکسی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی میں گزشتہ کچھ مہینوں سے سی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے دہلی کی کیجریوال حکومت نے جمعہ کے روز آٹو رکشہ اور ٹیکسیوں کے لیے نظر ثانی شدہ کرایوں کو منظوری دے دی ہے۔ دہلی حکومت کا یہ فیصلہ آٹو رکشہ اور ٹیکسی پر سفر کرنے والوں کے لیے زوردار جھٹکا ہے۔ حالانکہ آٹو اور ٹیکسی ڈرائیور کے لیے یہ راحت بھری خبر ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کیلاش گہلوت نے اس تعلق سے کہا کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی قیادت میں دہلی حکومت آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ہمیشہ پابند عہد رہی ہے۔ نظرثانی شدہ کرایوں سے آٹو ڈرائیوروں کو اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور شہر میں آٹو رکشا اور ٹیکسیوں کی دستیابی میں اضافہ کرکے مسافروں کو سہولت ہوگی۔

حکومت کے نئے نرخ کے مطابق پہلے ڈیڑھ کلومیٹر کے لیے 25 روپے ادا کرنے پڑتے تھے، اب نئے کرائے کے مطابق 30 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی پہلے یہ ساڑھے 9 روپے فی کلومیٹر تھا جو اب بڑھ کر 11 روپے فی کلومیٹر ہو گیا ہے۔ دہلی حکومت کے اس فیصلے سے دہلی کے تقریباً دو لاکھ آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ سی این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے ان ڈرائیوروں کو زیادہ لاگت برداشت کرنی پڑ رہی تھی۔ آٹو رکشا اور ٹیکسیوں کے نئے کرایے دہلی حکومت سے منظوری ملنے کے بعد آنے والے ہفتوں میں نوٹیفکیشن کے بعد نافذ ہوں گے۔


واضح رہے کہ سی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے آٹو رکشا اور ٹیکسیوں کی لاگت، دیکھ ریکھ اور ڈرائیوروں کی آمدنی کو متاثر کرنے والے مختلف مسائل کے پیش نظر کرایوں کا جائزہ لینے اور سفارش کرنے کے لیے مئی میں 13 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے کالی اور پیلی ٹیکسیوں اور اکانومی ٹیکسیوں کے کرایوں پر نظر ثانی کی سفارش کی تھی، جس کا دہلی حکومت نے جائزہ لیا اور اسے منظوری دے دی۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ پریمیم ٹیکسی کیٹیگری کے موجودہ کرایوں کو تبدیل نہ کیا جائے تاکہ وہ صارفین کے لیے بہت مہنگے نہ ہوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔