’اینالاگ‘ پنیر کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سخت، مفاد عامہ کی عرضی پر مرکز اور ایف ایس ایس اے آئی سے مانگا جواب

دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)، دہلی حکومت اور اس کے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ سے جواب طلب کیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
i

دہلی ہائی کورٹ نے ’اینالاگ‘ پنیر کے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور ایف ایس ایس اے آئی سے جواب طلب کیا ہے۔ عرضی میں قومی راجدھانی میں مبینہ طور پر پنیر کے طور پر پیش یا فروخت کی جانے والی ڈیری اینالاگ اور نان ڈیری مصنوعات کے خلاف فوڈ سیفٹی معیارات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما کی ڈویژن بنچ نے مرکزی حکومت، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)، دہلی حکومت اور اس کے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ سے جواب طلب کیا ہے۔

سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ جب کوئی صارف ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں پنیر کا آرڈر دیتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈش ڈیری مصنوعات سے بنی ہوگی، نہ کہ اینالاگ سے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج صارف کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ڈش دودھ سے بنی مصنوعات پر مشتمل ہوگی یا اس میں مختلف اجزا سے تیار کردہ اینالاگ استعمال کیا گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ یہ پنیر کی نقل ہو سکتی ہے۔ یہ پنیر جیسی دکھائی دیتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی پنیر جیسا ہوتا ہے، لیکن اس کی اصل نوعیت جاننے یا ظاہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔


عدالت کے یہ پوچھنے پر کہ کن قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، وکیل نے فوڈ پروڈکشن معیارات اور فوڈ ایڈیٹیوز سے متعلق 2011 کے ایف ایس ایس اے آئی ضوابط کا حوالہ دیا۔ وکیل نے کہا کہ پنیر ایک ایسی مصنوعات ہے جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ اینالاگ میں صرف کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں اور ان میں کوئی غذائی قدر نہیں ہوتی۔ تاہم وکیل نے نوراتری اور دسہرہ کے تہواروں کا حوالہ دیتے ہوئے عبوری راحت کی درخواست کی اور کچھ نمونوں کی جانچ کا حکم دینے کی اپیل کی، لیکن عدالت نے بدھ کو کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

عرضی میں متعلقہ افسران کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ موجودہ فوڈ سیفٹی نظام کے تحت پنیر ایک معیاری ڈیری مصنوعات ہے، جبکہ ڈیری اینالاگ میں ایسے اجزا ہو سکتے ہیں جو مکمل طور پر یا جزوی طور پر دودھ کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے ہوں۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعتراض ہر قانونی ڈیری اینالاگ پر نہیں ہے، بلکہ ان مصنوعات پر ہے جنہیں ان کی اصل نوعیت ظاہر کیے بغیر پنیر کے طور پر فروخت، سپلائی یا پیش کیا جا رہا ہے۔


اس کے علاوہ، مفاد عامہ کی عرضی میں مہاراشٹر، گجرات، پنجاب اور چھتیس گڑھ میں اینالاگ یا نان ڈیری پنیر سے متعلق اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی نظام افسران کو ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔ عرضی میں خاص طور پر پنجاب کے فوڈ سیفٹی افسران کے ایک حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت ایک مقررہ مدت کے لیے اینالاگ یا نان ڈیری پنیر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ دیگر ریاستوں کے افسران کی جانب سے جاری کیے گئے ریگولیٹری آرڈر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔