مودی کے 2 اراکین پارلیمنٹ مشکل میں، دہلی ہائی کورٹ نے بھیجا نوٹس

بی جے پی اراکین پارلیمنٹ ڈاکٹر ہرش وردھن اور ہنس راج ہنس کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ ان دونوں پر انتخابی حلف نامہ میں غلط جانکاری دینے کا الزام ہے اور اسی لیے دہلی ہائی کورٹ نے انھیں نوٹس بھیجا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

انتخابی حلف نامہ میں غلط جانکاری دینے سے متعلق بی جے پی کے دو اراکین پارلیمنٹ کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن سے اس عرضی پر جواب طلب کیا ہے جس میں ان کی لوک سبھا کی رکنیت رَد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی کے مطابق ہرش وردھن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے دوارکا میں اپنی بیوی کے ذریعہ خریدے گئے رہائشی اپارٹمنٹ کی جانکاری انتخابی حلف نامہ میں نہیں دی تھی۔ معاملے کی اگلی سماعت 24 ستمبر کو ہوگی۔

عرضی داخل کر ایک شخص نے الزام لگایا تھا کہ انتخابی حلف نامہ میں ہرش وردھن نے اپنی بیوی کی آمدنی کے ذریعہ کا ذکر نہیں کیا ہے جب کہ انتخابی کمیشن کے قانون اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق امیدواروں کو اپنی بیوی اور بچوں کی آمدنی کا ذریعہ بتانا ہوتا ہے۔

دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہنس راج ہنس کے خلاف داخل کی گئی عرضی پر سماعت کی۔ اس دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور انتخابی کمیشن کو عدالت کی طرف سے نوٹس جاری کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے لوک سبھا انتخابات میں نامزدگی کے دوران ہنس راج ہنس کے ذریعہ دی گئی سبھی جانکاریوں کے ریکارڈ دینے کی ہدایت انتخابی کمیشن کو دیاہے۔

واضح رہے کہ رکن پارلیمنٹ ہنس راج ہنس کی جیت کے بعد ان کے خلاف کھڑے کانگریس امیدوار راجیش للوٹھیا کے ذریعہ عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس عرضی میں ہنس راج ہنس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے حلف نامہ میں غلط جانکاریاں دی تھیں۔

Published: 12 Jul 2019, 9:10 AM