اقلیتی کمیشن میں عہدے خالی ہونے پر وزارت کو نوٹس

نوٹس کا جواب دینے والوں کی فہرست میں وزیراعظم کے دفتر کا نام ہونے پر اعتراض کیا گیا جس کے بعد عدالت نے فہرست سے پی ایم او کا نام ہٹا دیا۔

علامتی تصویر آئی اےاین ایس 
علامتی تصویر آئی اےاین ایس
user

یو این آئی

قومی اقلیتی کمیشن میں خالی عہدوں کو لے کر کل دہلی ہائی کورٹ میں سنوائی ہوئی جس میں دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے پیر کو پوچھا کہ قومی اقلیتی کمیشن میں سات سے چھ عہدہ اکتوبر 2020سے خالی کیوں ہیں۔

جج پرتیبھا ایم سنگھ کی سنگل بنچ نے خالی عہدوں کو بھرنے والی درخواست کی عرضی پر وزارت اقلیتی امور کو دس دن میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔


عرضی گزار ابھے رتن بودھ نے اپنی عرضی میں دعوی کیا ہےکہ موجودہ حالات کی وجہ سے بودھ اقلیتی برادری کی حفاظت اور مفادمتاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایک مناسب کورم کے بغیر کمیشن اقلیتی کمیونٹیوں کے مسائل حل نہیں کر پارہا ہے۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے جواب دینے والوں کی فہرست میں وزیراعظم کے دفتر کا نام ہونے پر اعتراض کیا اور کہاکہ تقرری کے عمل میں پی ایم او کا کوئی کردار نہیں ہے جس کے بعد عدالت نے فہرست سے پی ایم او کا نام ہٹا دیا۔معاملے کی اگلی سماعت 8مارچ کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔